سندھ کی تقسیم کرنے اور نئے صوبے بنانے کی باتیں کرنے والوں کو سندھ کے طول و عرض اور حقائق کا کچھ علم نہیں،سعید غنی

پیر 17 اگست 2026 19:34

سندھ کی تقسیم کرنے اور نئے صوبے بنانے کی باتیں کرنے والوں کو سندھ کے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کرنے اور نئے صوبے بنانے کی باتیں کرنے والوں۔ کو سندھ کے طول و عرض اور حقائق کا کچھ علم نہیں ہے۔ صوبہ سندھ میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی، کے یو آئی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ نون وہ سب سندھ کی تقسیم کے خلاف ہی بات کریں گے۔

سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کران کو شرم آنی چاہیے، وہ اپنے آپ کو تو جوڑ سکتے نہیں ہیں اور سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ جو مرضی ہیں کرلیں میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ سندھ کے اندر کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنے گا۔ آئی ایس پی آر کا کام نہیں کہ وہ طے کریں کہ صوبہ بنیں گے یا نہیں بنیں گے۔ انہوں نے یہ بات کسی سوال کے جواب میں کہی تھی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاون میونسپل کارپوریشن کورنگی کے تحت ٹی ایم سی انگلیش میڈیم ماڈل اسکول ( شہید نجیب احمد کیمپس) کی افتتاحی تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب و بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے کچی آبادی سید نجمی عالم، چیئرمین کورنگی ٹاؤن محمد نعیم شیخ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

جبکہ تقریب میں پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ کورنگی کے صدر جانی میمن، شرجیل رضوانی، سراج وحید، انفارمیشن سیکرٹری احمد رضا، وائس چیئرمین کورنگی ٹاؤن زرین اعوان، نوید زبیر و دیگر بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے اسکول کے افتتاح پر فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا اور اسکول کا دورہِ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے، لیکن کورنگی ٹاؤن نے پہلے بھی اس طرح کے اقدامات کئے ہیں، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے ٹائون چیئرمین نے جس طرح یہاں آئی ٹی انسٹیوٹ، پارکس، کھیلوں کے میدان سمیت تعلیمی سرگرمیوں کے لئے جو اقدامات کئے ہیں یہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وڑن کے عین مطابق ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ لوگوں کو بہترین تعلیم اور صحت اولین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکول ٹی ایم سی نے بنایا دیا ہے ، اب بہتری اسی وقت رہے گی جب یہاں کے لوگ اس کی دیکھ بھال کریں گے اور اس کو اوون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ضلع کورنگی میں بے تحاشہ ترقیاتی کام کروائے ہیں اور مزید ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔

میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ بعض اوقات بہت حیرت ہوتی جب مختلف تجزیہ نگار اور تجزیہ کار صحافی بیٹھے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کہ سندھ میں صوبہ بنے اور اس کی دلیل دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کرپشن کرتی ہے۔ اس طرح کی جاہلانہ اور بے وقوفی والی سوچ رکھنے والوں کو ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کو سندھ کے طول و عرض اور حقائق کا کچھ علم نہیں ہے۔ یہاں ہے لوگوں کا اس سندھ کی زمین سے کیا رشتہ ہے اس کا بھی شاید علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2012 یا 13 میں سندھ میں پیپلز پارٹی کا ایم کیو ایم سے بلدیاتی نظام پر ایک معاہدہ ہوا تھا اور ہم نے بلدیاتی نظام میں کچھ ترامیم کی تھی اور اس کے ردعمل میں سندھ کے لوگوں نے باقاعدہ ایک مہم چلائی اور خود پیپلز پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی نے چیئرمین بلاول بھٹو سے اس ترامیم کی واپسی کا مطالبہ کیا اور ہم نے اسمبلی سے یہ ترامیم دوبارہ واپس لی۔

سعید غنی نے کہا کہ بلدیاتی ترامیم اور سندھ میں نئے صوبے بنانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر پیپلز پارٹی نے خدانخواستہ یہاں دوسرے صوبے بنانے پر بات بھی کی تھی تو بلدیاتی ترامیم پر جس طرح کا ردعمل آیا تھا وہ شاید آنے والے ردعمل کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی، کے یو آئی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ نون وہ سب سندھ کی تقسیم کے خلاف ہی بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کا یکجا ہوکر ایک ہی موقف ہے کہ صوبہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ یہ تین سے چار لوگ جو کونسلر تک نہیں بن سکتے ان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں، ان کو شرم آنی چاہیے، وہ اپنے آپ کو تو جوڑ سکتے نہیں ہیں اور سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ ان کے کچھ سیاسی مفادات اور ایجنڈے ہوسکتے ہیں لیکن اپنے مفادات کے لئے وہ سندھ میں نفرتیں نہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے معاشی حالات اچھے نہیں ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور یکجہتی ہو۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ خود مصطفی کمال نے کہا کہ سکھر کے عوام نے کہا کہ صوبہ نہیں چاہئے۔

اب وہ بیٹھ کر سندھ کی تقسیم کی بات کررہا ہے، ان کو شرم آنی چاہئے نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ میں بڑے عرصے کے بعد یکجہتی پیدا ہوئی ہے، آج یہ جو بھی ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کر رہے ان کو سوچنا چاہئے۔ سعید غنی نے واضح طور پر کہا کہ یہ جو مرضی ہیں کرلیں میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ سندھ کے اندر کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری ایم کیو ایم کے ان لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ عقل کے ناخن لیں اور لوگوں کو نفرتوں میں نہ دھکیلیں۔