بھارت کی83افرا د پر مشتمل جوائنٹ فیملی کے سوشل میڈیا پر چرچے

خاندان کوکھانے کے لیے روزانہ 50 کلو چاول کی بوری درکار ہوتی ہے.رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 13 اگست 2026 14:45

بھارت کی83افرا د پر مشتمل جوائنٹ فیملی کے سوشل میڈیا پر چرچے
دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 اگست ۔2026 ) بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع اننت پورکی 83افراد پر مشتمل ”جوائنٹ فیملی“ سوشل میڈیا پر وائرل ہے خاندان کا کہنا ہے کہ اگرشام کی چائے کے ساتھ پکوڑے کھانے کا دل کرے تو پورا 15 کلو بیسن لگ جاتا ہے جبکہ خاندان کوکھانے کے لیے روزانہ 50 کلو چاول کی بوری درکار ہوتی ہے. اتوار کو گوشت کھانے کا دن ہوتا ہے جس کے لیے پوری ایک بھیڑ اور دس کلو چکن پکایا جاتا ہے رپورٹ کے مطابق کورلاپلی نامی اس گاﺅں میں 400 گھر ہیں اور اس کی آبادی لگ بھگ دو ہزار کے قریب ہے اس خاندان کے پاس چار بڑے گھر ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام گھروں کا باورچی خانہ ایک ہی ہے خاندان کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت ہے خاندان کے سربراہ ہنومنتھا رائیڈو اور متیالاپا دودھ دوہنے سے لے کر کھیتی باڑی اور کاروبار تک ہر چیز کا فیصلہ یہی دونوں کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ گھر میں کوئی بھی حتی کہ ان کے بہنوئی متیالاپا بھی، ان کی مخالفت نہیں کرتے اور ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے والد اور دادا کی وفات کے بعد خاندان کی ذمہ داری مجھ پر آ گئی تھی تب سے میں اکیلا ہی اس خاندان کی دیکھ بھال کر رہا ہوں آج تک ہمارے درمیان کوئی مسئلہ یا اختلاف نہیں ہوا ہم سب نے مل کر سخت محنت کی ہے.

انہوں نے بتایا کہ ہم سب صبح ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور ہر فرد کو اس کا کام سونپ دیتے ہیں گھر کے تمام کام، کھانے پینے اور کپڑوں وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں ہم اپنے بہنوئیوں کے بچوں کو اپنے گھر میں پالتے ہیں اور ان کے بچوں کو بھی اپنے ہی گھر میں رکھتے ہیں یہی ہمارا طریقہ ہے. ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ہم نے بہت غربت دیکھی ہمارے پاس اوڑھنے کے لیے کمبل بھی نہیں تھے اور کھانے کے لیے صرف ایک وقت کی روٹی میسر تھی وہاں سے اٹھ کر آج ہم اس مقام تک پہنچے ہیں یہ سب صرف اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ہم سب ساتھ تھے۔

(جاری ہے)

اگر ہم الگ الگ ہوتے تو کبھی یہاں تک نہ پہنچ پاتے.

ان کا کہنا تھا کہ جس بڑے گھر میں ہم آج رہ رہے ہیں اسے بنانے پر 20 کروڑ روپے خرچ ہوئے یہ اکیلے کرنا ممکن نہیں تھا‘ میرے والد کے پاس 60 ایکڑ زمین تھی اور ان کی وفات کے بعد ہم سب نے مل کر 75 ایکڑ زمین مزید خریدی انہوں نے کہا کہ وہ باہمی تنازعات سے بچنے کے لیے شادیاں بھی گھر کے اندر مل کر کرواتے ہیں ’میں نے اپنے بیٹوں اور اپنے بہنوئی کے نو بیٹوں کی شادی ایک ہی دن کروائی.

انہوں نے بتایا کہ گھر میں کھانا لکڑیوں کے چولہے پر پکایا جاتا ہے چھ نسلوں سے کھانا پکانے کے روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں اگرچہ رہنے کے لیے تین گھر ہے مگر جس کو جہاں جگہ ملے وہ وہیں سو جاتا ہے لیکن 83 افراد کے لیے کھانا ایک ہی برتن میں تیار ہوتا ہے. ان کے مطابق گھر کی خواتین نے بھی مردوں کی طرح اپنی ذمہ داریاں بانٹی ہوئی ہیں تہوار کے روز دو بھیڑیں اور ساتھ 20 کلو چکن پکانا پڑتا ہے پورے خاندان میں کوئی بھی سرکاری یا نجی ملازمت نہیں کرتا اور اگر اہلخانہ نے کہیں آنا جانا ہو تو اس کے لیے چار بسیں بھی ہیں‘خاندان کے 32 بچے زیر تعلیم ہیں .

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مجموعی طور پر 120 ایکڑ زمین ہے ہم بنیادی طور پر مرچ، بینگن، ٹماٹر، تربوز، پپیتا اور مونگ پھلی اگاتے ہیں ہم خود ہی اپنی فصل فروخت بھی کرتے ہیں۔ تربوز اور پپیتا دلی، جبکہ ٹماٹر اور بینگن چنئی بھیجتے ہیں اس کے علاوہ مویشی پالتے ہیں. اس خاندان میں مجموعی طور پر چھ ساسیں اور 14 بہوئیں ہیں مہیش کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھر کی خواتین کے درمیان کبھی جھگڑا نہیں دیکھا خاندان کی بزرگ خاتون انورادھا نے کہا کہ ہم چھ ساسیں اور 14 بہوئیں بہت اچھے طریقے سے رہتی ہیں کچھ باغ میں کام کرتی ہیں اور کچھ گھر میں کوئی کسی کے لیے مسئلہ پیدا نہیں کرتا اگر کچھ ہو بھی جائے تو ہم فوراً اسے سنبھال لیتے ہیں اگر کبھی جھگڑا یا بحث ہو جائے تو بعد میں سب معمول کے مطابق ایک دوسرے سے مل جل لیتے ہیں.