عدالتی حکم کے باوجود آواب علوی کا نام کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر سندھ ہائیکورٹ برہم

جمعرات 13 اگست 2026 16:22

عدالتی حکم کے باوجود آواب علوی کا نام کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر سندھ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2026ء) : سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کے بیٹے آواب علوی کا نام عدالتی حکم کے باوجود کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر متعلقہ حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سمیت دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔آواب علوی کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل ہاشم سہرانی نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے حکم کے باوجود آواب علوی کا نام کنٹرول لسٹ سے نہیں نکالا گیا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آواب علوی کا نام پی این آئی ایل میں شامل کیا گیا تھا اور سندھ ہائیکورٹ نے 19 فروری کو نام کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا تھا، تاہم عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

وکیل کے مطابق آواب علوی کو 7 اپریل کو سری لنکا جاتے ہوئے روک دیا گیا تھا۔سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ حکام کے طرز عمل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرلیا۔

عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے منتظر مہدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن شہزاد اکبر کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ حکام خود پیش ہوں، بصورت دیگر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ سندھ ہائیکورٹ نے درخواست کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔