1 کروڑ 70لاکھ روپے کے بائونس چیک کیس کی سماعت ملتوی

فریقین کا موقف سن کر مکمل رپورٹ 18اگست کو پیش کی جائے‘ لاہور ہائیکورٹ

جمعرات 13 اگست 2026 16:22

1 کروڑ 70لاکھ روپے کے بائونس چیک کیس کی سماعت ملتوی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے ایک کروڑ 70لاکھ روپے کے بائونس چیک کے مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت پر ایس ایچ او کو فریقین کا موقف سن کر 18اگست کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔جسٹس غلام سرور نہنگ نے ملزم سکندر حیات کی درخواست پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ملک عمر طاہر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ مدعی مقدمہ، ملزم، تفتیشی افسر اور متعلقہ ایس ایچ او بھی عدالت میں موجود تھے۔

دوران سماعت عدالت نے فریقین کے موقف اور مقدمے کی تفتیش سے متعلق تفصیلات دریافت کیں۔ مدعی مقدمہ کے مطابق ملزم نے مکان خریدنے کے عوض ایک کروڑ 50لاکھ روپے کا بائونس چیک دیا، جس پر مقدمہ درج کیا گیا جبکہ پراسیکیوشن کے مطابق مقدمے میں مجموعی رقم ایک کروڑ 70لاکھ روپے ہے۔

(جاری ہے)

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدعی مقدمہ رقم وصول کرچکا ہے اور اسے عدالت میں رقم وصولی کا بیان دینا تھا تاہم اس نے بیان نہیں دیا۔

وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ملزم رقم کی ادائیگی کرچکا ہے اور مدعی نے جسٹس امجد رفیق کی عدالت میں بھی رقم وصول کرنے کا بیان دیا تھا۔جسٹس غلام سرور نہنگ نے استفسار کیا کہ عدالت میں دیئے گئے بیان کا ریکارڈ کہاں ہی ۔وکیل صفائی نے جواب دیا کہ اس بیان کا ریکارڈ موجود نہیں تاہم اس موقع پر تفتیشی افسر بھی موجود تھا۔وکیل صفائی نے مزید بتایا کہ رقم کے عوض 48لاکھ روپے مالیت کی گاڑی بھی مدعی کو منتقل کی گئی تھی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پارٹی نے گاڑی منتقل کی جبکہ مدعی نے تقریباً 45لاکھ روپے میں گاڑی خریدی تھی اور گاڑی کی بائیومیٹرک تصدیق بھی ہوئی تھی۔عدالت نے مقدمے کی تاریخ سے متعلق استفسار کیا تو خاتون ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ مقدمہ 19جولائی 2023ء کو درج ہوا تھا۔ جسٹس غلام سرور نہنگ نے رقم سے متعلق سوال کیا تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ مقدمے میں ایک کروڑ 70لاکھ روپے کی رقم شامل ہے۔

عدالت نے ملزم کی سابقہ ضمانتوں سے متعلق بھی تفصیلات طلب کیں۔ جسٹس غلام سرور نہنگ نے استفسار کیا کہ ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کی تھی اور شامل تفتیش بھی ہوا تھا ۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کرکے تفتیش میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم تین ماہ بعد عبوری ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہوگئی۔وکیل صفائی نے بتایا کہ اسی روز دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کی گئی، جو مچلکے جمع نہ کروانے کے باعث خارج ہوگئی جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ 16دسمبر 2023ء کو ملزم کی تیسری ضمانت میرٹ پر خارج ہوئی تھی۔

جسٹس غلام سرور نہنگ نے استفسار کیا کہ ماتحت عدالت سے ضمانت خارج ہونے کے بعد ملزم چار ماہ بعد لاہور ہائیکورٹ آیا، اس دوران ملزم کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات کیے گئی ۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیے گئے لیکن وہ دستیاب نہیں ہوا۔ عدالت نے مزید استفسار کیا کہ 2023ء سے اب تک ملزم کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات کیے گئی ۔

پراسیکیوشن کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم کے وارنٹ حاصل کیے گئے جبکہ ٹرائل کورٹ میں چالان بھی جمع کروایا گیا۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مسلسل ریڈ کیے جاتے رہے اور وہ فرار تھا۔سماعت کے دوران مدعی مقدمہ نے موقف اختیار کیا کہ اسے مکمل رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی جانب سے گاڑی بھی منتقل کی گئی تھی۔

تفتیشی افسر کے مطابق گاڑی کی بائیومیٹرک تصدیق کے ساتھ دیگر قانونی کارروائی بھی مکمل کی گئی تھی۔مدعی مقدمہ نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی جانب سے رقم کی ادائیگی کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے فریقین کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔جسٹس غلام سرور نہنگ نے فریقین کے موقف اور تفتیشی عمل کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ ایس ایچ او کو حکم دیا کہ دونوں فریقین کا موقف سن کر معاملے کی مکمل رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس کا تبادلہ سی سی ڈی میں ہوچکا ہے اور متعلقہ ایس ایچ او بھی اس کے ہمراہ عدالت میں موجود ہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے ملزم سکندر حیات کی درخواست ضمانت پر سماعت 18اگست تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او سے فریقین کا موقف سن کر رپورٹ طلب کرلی۔