4.5 ملین میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا تاثر بالکل بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہے. ترجمان

پنجاب میں 5.4 ملین میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں . ترجمان فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 13 اگست 2026 15:13

4.5 ملین میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا تاثر بالکل بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 اگست ۔2026 ) ترجمان فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں پنجاب سے 4.5 ملین میٹرک ٹن گندم کے غائب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے. ترجمان نے واضح کیا کہ یہ تاثر بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے4۔

(جاری ہے)

5 ملین میٹرک ٹن گندم کی مقدار پورے صوبہ سندھ کی ایک سال کی مجموعی پیداوار کے برابر ہوتی ہے اتنی بڑی مقدار کو ذخیرہ یا منتقل کرنے کے لیے 50 کلوگرام کی 9 کروڑ بوریوں کی ضرورت ہوتی ہے اتنے بڑے حجم کا نظروں سے اوجھل ہونا عملاً ناممکن ہے.

انہوں نے بتایا کہ پنجاب ملک کی گندم کی مجموعی پیداوار میں ہمیشہ 75 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے پنجاب کی اپنی ضرورت سے 33 فیصد زائد یعنی 5.4 ملین میٹرک ٹن سرپلس گندم پیدا ہوتی ہے، جو نہ صرف پنجاب کی ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ سندھ سمیت دیگر صوبوں کی کمی کو بھی پورا کرتی ہے پنجاب کے علاوہ تمام دیگر صوبے گندم کی پیداوارمیں ڈیفیسٹ (کمی) کا شکار ہیں.

ترجمان نے بتایا کہ اس سال ملکی پیداوار میں پنجاب کا حصہ مزید بڑھ کر 77 فیصد ہو گیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ایگریگیٹرز کے ذریعے نصف ملین (5 لاکھ) میٹرک ٹن گندم 3,500 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے خریدی ہے جب کہ ہارویسٹ سیزن کے صرف دو ہفتوں کے اندر اندر اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 3,500 روپے سے تجاوز کر گئی تھی.

ترجمان کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4,700 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جس سے ماضی کے مقابلے میں کسان کو اپنی فصل کا بہترین معاوضہ مل رہا ہے اور کسان خوشحالی کی جانب گامزن ہیں. ترجمان نے کہا کہ پنجاب میں 5.4 ملین میٹرک ٹن سرپلس گندم کے ذخائر موجود ہیں جو صوبائی ضرورت سے بھی زائد ہیں، اس کے علاوہ دیہاتوں میں گندم کے چھوٹے ذخائر (تقریباً 200 سے 300 بوریوں کی مقدار) میں موجود ہیں لہذا گندم کی کمی کا تاثر بالکل غلط اور حقائق کے منافی ہے.

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی پیداوار اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی درآمد (Import) کا فیصلہ وفاقی حکومت کرتی ہے ترجمان نے میڈیا پر زور دیا ہے کہ قومی اہمیت کے حامل حساس معاملات پر خبریں نشر یا شائع کرنے سے قبل تصدیق شدہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھیں تاکہ عوام میں کسی قسم کی گمراہی یا سنسنی نہ پھیلے.