Live Updates

۹کلاتک میں جشنِ آزادی کی تقریب، بجلی، پانی، تعلیم اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان

)جنوبی بلوچستان پیکیج سے خطے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے، میر ظہور احمد بلیدی

جمعرات 13 اگست 2026 21:35

تربت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 اگست2026ء) پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند کے زیرِ اہتمام جشنِ آزادی 2026 کی تیاریوں کے حوالے سے تربت کے علاقے کلاتک میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، معروف سیاسی شخصیات خلیل احمد تگرانی، احد الہی، حبیب الرحمن سمیت دیگر اعلی حکام اور علاقہ مکینوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند نے پاکستان کی آزادی اور اس کے استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران علاقے میں بجلی، پانی، بندات کی تعمیر، زراعت اور دیگر عوامی فلاح و بہبود کے متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

میر اصغر رند نے کہا کہ آج کے دور میں جھوٹ اور منافقت کی سیاست نہیں چل سکتی، کیونکہ سوشل میڈیا کے دور میں عوام ہر بات سے باخبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست مثبت انداز میں کی جانی چاہیے اور جمہوری رویوں کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ملک اور قوم کو فائدہ پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ کلاتک اور گردونواح کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی فراہمی ہے، جس کے حل کے لیے صوبائی حکومت نے بجٹ میں بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمروں کی مد میں فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ علاقے میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔

میر اصغر رند نے اس موقع پر صوبائی حکومت کی جانب سے میرانی ڈیم کے متاثرین کو معاوضے کی مد میں فنڈز کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے جشنِ آزادی کے موقع پر پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے عزم کا اظہار کرتے ہوئیکہا کہ موجودہ حکومت نے جنوبی بلوچستان پیکیج جنوبی بلوچستان کے عوام کے لیے منظور کرایا، جس میں شاہراہوں کی تعمیر کے علاوہ صحت، تعلیم، آبپاشی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں، تاکہ بلوچستان کے عوام کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل ایک قومی دھارے کی وفاقی جماعت ہی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قوم پرست جماعتوں کی طرح محض سیاسی نعرہ بازی اور شعبدہ بازی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 425 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی، متعدد کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی اور تقریبا 60 انٹرمیڈیٹ کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دینے جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کلاتک میں امتحانی ہال اور لائبریری کی تعمیر کے علاوہ علاقے میں گرین بس سروس شروع کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ وہ پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی میر اصغر رند کے ساتھ مل کر کلاتک کی ترقی کے لیے مزید منصوبے حکومتِ بلوچستان سے منظور کرائیں گے، تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش تعلیم، صحت، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے جا سکیں
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات