انصاف کو عدالتوں تک محدود نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں یقینی بنانا ہوگا، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا پرچم کشائی تقریب سے خطاب

جمعہ 14 اگست 2026 13:19

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2026ء) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا ہے کہ لوگ عدالتوں میں انصاف حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ناانصافی ختم کرانے آتے ہیں، اس لیے انصاف کو صرف عدالتوں تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی کے ہر شعبے میں یقینی بنانا ہوگا۔ اگر ہم اپنی زندگی میں انصاف کے اصولوں پر چلنے کا عہد کریں تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ پروقار پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے قومی پرچم لہرایا۔ تقریب میں بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز ججز، افسران، عدالتی عملے، وکلا تنظیموں کے عہدیداران، بار نمائندگان اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ 14 اگست ایک تاریخی دن، ایک نظریے اور تجدید عہد کا نام ہے۔ پاکستان کو ذہین لوگوں نے دلیل کے ذریعے اس وطن کو آزاد کرایا اللہ تعالی نے آج کے دن ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت سے نوازا، جس پر ہمیں شکر ادا کرتے ہوئے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قوموں کی اصل قوت اتحاد و اتفاق میں ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف صرف عدالتوں میں ہونے والے فیصلوں کا نام نہیں بلکہ والدین، اولاد، رشتہ داروں، ہمسایوں اور ماتحتوں کے ساتھ انصاف کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

اگر بہن بھائی جائیداد میں ایک دوسرے کا حق تسلیم کریں تو مقدمہ بازی میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے، اسی طرح افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ انصاف کریں تو وہ اپنے فرائض زیادہ بہتر انداز میں انجام دیں گے۔جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ جب لوگوں سے ناانصافی کا اندیشہ ختم ہوگا تو وہ اپنے فرائض زیادہ احسن طریقے سے انجام دیں گے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ اپنی حالت بدلنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے اور یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا ملک اور معاشرہ دے کر جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے باعث دنیا کے لیے انتہائی اہم ملک ہے۔ سی پیک نے بھی دنیا پر پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت واضح کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ ریشم تقریبا پانچ ہزار سال سے اس خطے کو دنیا کی مختلف تہذیبوں سے جوڑتی رہی ہے۔ دشمنوں یا بدخواہوں کے منفی پروپیگنڈے سے پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کم نہیں ہوسکتی۔تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ شرکا نے قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور ملکی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔