Live Updates

عمان اگر ایران معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنا تو بمباری کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی

DW ڈی ڈبلیو منگل 18 اگست 2026 12:20

عمان اگر ایران معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنا تو بمباری کریں گے، ٹرمپ کی ..
  • عمان اگر ایران معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنا تو بمباری کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی

عمان اگر ایران معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنا تو بمباری کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی

آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جسے ایران نے 28 فروری کو مسلح تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری تعطل میں مرکزی مسئلہ بنا ہوا ہے، جبکہ جنگ کے خلاف امریکہ میں عوامی مخالفت کے باعث نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کو بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر عمان راستے میں آیا تو ہم اسے بری طرح بمباری کا نشانہ بنائیں گے۔‘‘ ان کا یہ بیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

(جاری ہے)

خلیج میں امریکہ کے اتحادی عمان نے ٹرمپ کے اس تازہ بیان پر تاحال کوئی عوامی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ایران اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے راستے مستقبل میں بحری آمد و رفت کے انتظامات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ اعلامیے کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔

ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ’’سفید پرچم لہرا کر ہتھیار ڈال دینا چاہییں۔

‘‘

امریکی صدر بارہا اصرار کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے، تاہم اس آبی گزرگاہ کے راستے بحری آمد و رفت اب بھی شدید متاثر ہے۔

گزشتہ جمعے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دے دیں گے، جس پر ایران نے جواب دیا تھا کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ ’’ایرانی ہی رہے گی۔‘‘

28 فروری کو ایران جنگ جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز ایک کھلی بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھی جاتی تھی، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تجارتی تیل اور دیگر اشیاء گزرتی تھیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے کسی عجلت میں نہیں ہیں، حالانکہ جنگ کی حمایت میں کمی آ رہی ہے اور اپوزیشن ڈیموکریٹس نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز سے کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ ان کی انتظامیہ اور ایران کے پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کے درمیان براہ راست پس پردہ رابطہ موجود ہے۔

سفارت کاری پر زور

ٹرمپ کے یہ سخت بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب امریکہ کے اتحادی ممالک جنگی فریقین پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ٹیلی فون پر صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ تنازعے پر بات چیت کی۔

صدر ایردوآن نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ’’سفارت کاری کو مکمل طور پر استعمال کرنے‘‘ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ انقرہ امن کے حصول کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

ادارت: مقبول ملک

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات