بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کے لئے رجوع کریں گے، اعظم نذیر تارڑ

منگل 18 اگست 2026 22:44

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اگست2026ء) وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عدالتی حکم کے مختلف نکات کا جائزہ لینے کے بعد اس پر نظرثانی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جیل اتھارٹیز اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعلق حکم کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے جس کے تحت بانی پی ٹی آئی کا دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کا جائزہ لینے کے بعد اتھارٹیز کی رائے ہے کہ یہ حکم ان قانونی ضوابط کے مطابق نہیں جو کسی سزا یافتہ شخص کو جیل میں یا جیل سے باہر علاج کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے موجود ہیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نظرثانی کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے عدالتی حکم میں مناسب ترمیم کی درخواست کی جائے گی تاکہ بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کسی سرکاری ہسپتال میں کرایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت مناسب سمجھے تو میڈیکل ماہرین کو بھی طبی معائنے کے عمل میں شامل کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے ہوں یا کسی دوسرے بڑے طبی ادارے سے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بنیادی قانونی نکتہ یہ ہے کہ اگر اس نوعیت کے طبی معائنے کے لئے نجی ہسپتالوں میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے تو ملک بھر کی جیلوں میں موجود ہزاروں قیدیوں کے لئے بھی اس حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت میڈیکل بورڈ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسی قیدی کا علاج جیل کے اندر ہوسکتا ہے یا اسے جیل سے باہر لے جانے کی ضرورت ہے اور جیل سے باہر علاج کی صورت میں سہولیات عام طور پر سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کی جاتی ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جب تک یہ شواہد یا طبی مواد سامنے نہ آئے کہ سرکاری ہسپتال کسی مخصوص علاج کی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہیں، اس وقت تک نجی ہسپتال میں علاج یا طبی معائنے کا انتظام معمول کا طریقہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں یہ قانونی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ حکم پورے پاکستان کی جیل آبادی کے لئے بطور نظیر استعمال ہوگا یا صرف مخصوص کیس تک محدود رہے گا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ان تمام قانونی نکات پر لیگل ٹیم نے مشاورت کی ہے، ابہام دور کرنے اور عدالتی حکم کو آئین و قانون کے مقررہ پیرامیٹرز کے مطابق لانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جارہا ہے۔