اسرائیلی وزیر اعظم کے نسل کشی کے نیٹ ورک کی سرگرمیاں خطے میں مزید افراتفری اور اموات کے سوا کچھ نہیں لائیں گی،ترکیہ

بدھ 19 اگست 2026 12:06

انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اگست2026ء) ترکیہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت پر مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور شام کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یہ بات ترکیہ کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر جیلک نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہی۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ’’نسل کشی کے نیٹ ورک‘‘ کی سرگرمیاں خطے میں مزید افراتفری اور بڑے پیمانے پر اموات کے سوا کچھ نہیں لائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ، مغربی کنارے کو غزہ میں تبدیل کرنے کی کوششیں، ایرانی عوام پر حملے، لبنان کے ایک حصے پر قبضہ اور شام کے خلاف کارروائیاں ایک ہی انتہا پسندانہ پروگرام کا حصہ ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب بھی شامی حکومت ملک کے اندرونی اتحاد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرتی ہے، اسرائیل فوری طور پر حملہ کرکے شامی عوام کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اندرونی اسرائیلی سیاسی دباؤ کے باعث ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ترک صدر اس ’’قاتل نیٹ ورک‘‘ کے خلاف انتہائی واضح اور فیصلہ کن موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر پوری انسانیت کی جانب سے اس ’’نسل کشی کے نیٹ ورک‘‘ کی مذمت کرتے ہیں اور یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ دن آئے جب اس نیٹ ورک کو قانون کے سامنے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اپنی عزت و وقار کے نام پر متفقہ طور پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔