ماہی گیروں کے بچوں کی تعلیم اور صحت سمیت ان کے بہتر روزگار کےلئے کام کر رہے ہیں، صوبائی وزیر لائیوسٹاک اینڈ فشریز

جمعرات 20 اگست 2026 19:22

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اگست2026ء) ہماراماہی گیر خوشحال ہوگا تو ہمارا ملک بھی خوشحال ہوگا لیکن ماہی گیروں کو غیر قانونی ماہی گیری کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ہم ماہی گیروں کے بچوں کی تعلیم اور صحت سمیت ان کے امن و امان کو بحال رکھنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر لائیوسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے ہاکس بے کے قریب غیر قانونی جال جلانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر کمانڈر سکیورٹی لائیوسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، پارلیمانی سیکرٹری ایم پی اے آصف خان، کمانڈر کوسٹ گارڈ ، ڈی جی ایم ایف ڈی ڈاکٹر منصور وسان، ڈی جی میرین فشریز ڈاکٹر عاصم کریم Ds محمد عمران اور ماہی گیر کمیونٹی کے دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر نے کہا کہ ماہی گیری کے علاوہ ماہی گیر کا کوئی دوسرا آسرا نہیں ہے، ان کا نقصان ملک کا نقصان ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی جال استعمال کرنے والوں کو روکنے کے لیے ہم نے جرمانے اور سزائوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم نے جو غیر قانونی جال جلائے ہیں ان کی کل مالیت ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہے اور وہ کل 660 جال تھے۔ محمد علی ملکانی نے کہا کہ ہم نے اس سال جرمانے کی مد میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ کے ماہی گیروں کو اس بار چھوٹی بڑی مچھلیوں کے شکار والی کشتیوں پر سبسڈی دی ہے اور یہ سبسڈی انہیں بینک اکائونٹس کے ذریعے دی گئی ہے تاکہ وہ ایجنٹ مافیا سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں FOA والوں نے تجویز دی تھی کہ سمندر سے مچھلیوں کا اسٹاک ختم ہو رہا ہے اس لیے مچھلی کے شکار پر کچھ وقت کے لیے پابندی عائد کی جائے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، ہم نے کہا کہ اگر چھوٹی مچھلی نہیں ماری جائے گی اور غیر قانونی جال استعمال نہیں ہوگا تو ماہی گیروں کو گزر بسر کے لیے بڑی مچھلی پکڑ کر اپنا گزارا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں امن و امان ہوگا وہیں کاروبار ممکن ہے، ہماری کوشش ہے کہ یورپی یونین مچھلی کی ایکسپورٹ پر لگی پابندی ہٹائے جس کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔