ٹھٹھہ کی شاہ جہاں مسجد، مغل فنِ تعمیر کا منفرد شاہکار

�ل قدیم مسجد اپنی گنبدوں کی دلکش ترتیب، شاندار کاشی کاری اور منفرد صوتی نظام کے باعث آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز

اتوار 23 اگست 2026 11:20

ٹھٹھہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2026ء) سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ میں واقع شاہ جہاں مسجد مغل دور کے فنِ تعمیر کا ایک منفرد شاہکار ہے، جس کی دلکش طرزِ تعمیر، خوبصورت کاشی کاری، گنبدوں کی حیرت انگیز ترتیب اور منفرد صوتی خصوصیات آج بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔تاریخی حوالوں کے مطابق مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 17ویں صدی میں 1644ء سے 1647ء کے دوران یہ مسجد سندھ کے عوام کے لیے تعمیر کروائی تھی۔

تقریباً 400 سال پرانی یہ مسجد مغل دور کی تعمیراتی مہارت، سندھ کی ثقافتی روایات اور ایرانی فنِ تعمیر کے حسین امتزاج کی عکاسی کرتی ہے۔شاہ جہاں مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کے گنبد شامل ہیں۔ عام مغل مساجد کے برعکس اس مسجد میں روایتی بلند مینار موجود نہیں، جبکہ اس کی چھت پر موجود گنبدوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف روایات مشہور ہیں۔

(جاری ہے)

بعض روایات میں مسجد کے 99 گنبد بیان کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض زاویوں سے گننے پر تعداد 100 بھی بتائی جاتی ہے۔مسجد کی تعمیر میں گنبدوں اور محرابوں کی ایسی ترتیب اختیار کی گئی ہے جو نہ صرف عمارت کو منفرد حسن عطا کرتی ہے بلکہ اس کے صوتی نظام کو بھی غیر معمولی بناتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد کے ایک حصے میں آہستہ آواز میں کی جانے والی گفتگو محراب کے قریب دوسرے حصے میں بھی واضح طور پر سنی جاسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسجد کی تعمیر میں آواز کی بازگشت کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص ساخت اختیار کی گئی، جس کے باعث آواز دیواروں اور گنبدوں سے ٹکرا کر دور تک پہنچتی ہے۔ قدیم دور میں جدید صوتی آلات کے بغیر بڑی تعداد میں نمازیوں تک آواز پہنچانے کے لیے یہ تعمیراتی تکنیک غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔شاہ جہاں مسجد کا ایک اور نمایاں پہلو اس کی خوبصورت کاشی کاری ہے۔

جہاں مغل دور کی متعدد معروف عمارات میں سرخ پتھر اور سفید سنگِ مرمر کا استعمال نمایاں نظر آتا ہے، وہیں ٹھٹھہ کی اس مسجد میں نیلی اور سفید ٹائلوں سے مزین فنِ کاشی کاری اسے منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق مسجد میں موجود خوبصورت کاشی کاری ایرانی فنِ تعمیر اور سندھ کے شہر ہالا کے ماہر کاریگروں کی فنی مہارت کا عکاس ہے۔ دیواروں، محرابوں اور گنبدوں پر کی گئی نقش و نگاری اور ٹائلوں کا خوبصورت امتزاج مسجد کے حسن میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

تاریخی اہمیت کی حامل اس عمارت کو وقت گزرنے کے ساتھ مختلف ادوار میں دیکھ بھال اور بحالی کے مراحل سے بھی گزارا گیا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی مسجد کی حالت بہتر بنانے اور تاریخی ورثے کے تحفظ پر توجہ دیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔مسجد کی وسیع گنجائش بھی اسے دیگر تاریخی مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ روایات کے مطابق یہاں ایک وقت میں ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں، جبکہ جمعہ اور دیگر بڑے اجتماعات کے موقع پر مسجد کا وسیع احاطہ نمازیوں سے بھر جاتا ہے۔

شاہ جہاں مسجد نہ صرف ایک قدیم عبادت گاہ بلکہ سندھ کے شاندار تہذیبی، ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کی علامت بھی ہے۔ اس کی منفرد تعمیر، گنبدوں کی ترتیب، صوتی خصوصیات اور نیلی سفید کاشی کاری آج بھی ماہرینِ فنِ تعمیر اور سیاحوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہیں۔