سٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ایس ای سی پی نے ونچرکیپٹل قانون تجویز کر دیا

پیر 24 اگست 2026 14:21

سٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ایس ای سی پی نے ونچرکیپٹل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی )نے ونچر کیپٹل بل کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کو بھجوا دیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد سٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، نئے کاروباروں کی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

ایس ای سی پی کی جانب سے پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں سٹارٹ اپس، ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی شعبوں میں نمایاں مواقع کے باوجود نوجوان کاروباری افراد اور نئے کاروباروں کی باضابطہ ونچر کیپٹل تک رسائی محدود ہے۔ ہائی گروتھ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس سرمائے کے حصول کے لیے اکثر بیرون ملک یا ملکی ریگولیٹری فریم ورک سے باہر ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے ایس ای سی پی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کو مشترکہ طور پر ونچر کیپٹل کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے اور سٹارٹ اپس اور تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سرمایہ تک رسائی بہتر بنانے کی ہدایت کی تھی۔مجوزہ بل اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ونچر کیپٹل فنڈز اور فنڈ منیجرز کے لیے سادہ اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گا۔

بل میں آسان لائسنسنگ اور رجسٹریشن، سادہ آپریشنل اسٹرکچر اور گورننس و رپورٹنگ کے واضح تقاضے تجویز کیے گئے ہیں، جس سے ونچر کیپٹل سرگرمیوں کو پاکستان کے باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بنانے میں مدد ملے گی۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے اس حوالے سے کہاہے کہ مجوزہ قانون سے نجی سرمایہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے کاروباروں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ بل میں ونچر کیپٹل سرمایہ کاری کی زیادہ رسک اور جدت پر مبنی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیٹری رکاوٹیں کم کرنے کے ساتھ مؤثر گورننس اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔اگلے مرحلے میں ایس ای سی پی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ اس بل کے مسودے پر اسٹارٹ اپس، فنڈ منیجرز، قانونی و مالیاتی ماہرین، سٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور متعلقہ صنعتی و کاروباری تنظیموں سمیت اہم سٹیک ہولڈرز سے عوامی مشاورت کریں گے۔ مشاور کے بعد مسودے کو قانون سازی کے عمل کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا جائے گا۔