سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی پشتون ہیں، اگر کسی بھی پشتون کی خاتون کو سرعام گالیاں دی جائیں تو کیا ردعمل ہوگا؟

اپنی اہلیہ یا گھر کی خاتون کیساتھ اگر ایسی حرکت ہو تو کوئی بھی انسان غصے میں غلطی کرسکتا ہے، لیکن فوج میں احتساب کا کڑا نظام غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ غریدہ فاروقی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 24 اگست 2026 18:53

سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی پشتون ہیں، اگر کسی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 22 اگست 2026ء) صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی پشتون ہیں، اگر کسی بھی پشتون کی خاتون کو سرعام گالیاں دی جائیں تو کیا ردعمل ہوگا؟ اپنی اہلیہ یا گھر کی خاتون کیساتھ اگر ایسی حرکت ہو تو کوئی بھی انسان غصے میں غلطی کرسکتا ہے، لیکن فوج میں احتساب کا کڑا نظام غلطی کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔

ایکس پر اپنے ٹویٹ انہوں نے کہا کہ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کا تعلق چارسدہ سے ہے، پشتون ہیں اور کسی بھی پشتون کی خاتون کو اگر سرِعام گالیاں دی جائیں دست درازی کی جائے گھسیٹا جائے بےعزت کیا جائے تو کیا ردعمل ہوگا؟ میں نے اپنی گزشتی ٹویٹ میں بھی لکھا ہے کہ چاہئیے تو یہ تھا کہ لیفٹننٹ کرنل اسفند ایک باضابطہ شکایت کے طریقے سے اپنی اہلیہ کیساتھ طلبہ کی طرف سے ہوئی زیادتی پر کاروائی کرواتے، مگر اہلیہ/ گھر کی خاتون کیساتھ اگر ایسی حرکت ہو تو کوئی بھی انسان غیرت اور غصے میں ہوش وحواس سے کام لینے میں غلطی کرسکتا ہے،
لیکن اس کے باوجود فوج میں احتساب کا کڑا نظام ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔

(جاری ہے)

اس سے قبل سرحد ہونیورسٹی واقعہ کے چند حقائق کے طابق لیفٹننٹ کرنل اسفند کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ اس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ ان کا ایک ایشو Head of Department کیساتھ چل رہا تھا۔ HoD کیخلاف کیس ثابت ہوا اور انہیں معطل کر دیا گیا۔ طلبہ HoD کے ساتھ تھے، ان کی بحالی کیلئے احتجاج کر رہے تھے۔ ڈاکٹر آئینہ جب طلبہ کو نظر آئیں تو خاتون کو گالیاں دی گئیں اور نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا۔

بعض اطلاعات کیمطابق ڈاکٹر آئینہ کو طلبہ کیطرف سے دست درازی کا بھی سامنا ہوا۔ ایسے میں ڈاکٹر آئینہ نے فورا اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفند کو کال کی جو فوری وہاں پہنچے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ویڈیو میں موجود ہے۔ لیفٹننٹ کرنل اسفند تحویل میں ہیں اور ان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔ انہیں کڑے disciplinary action کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ فوجی وردی میں ڈسپلن کی خلاف ورزی ہوئی اور سرکاری پستول کا استعمال بھی کیا گیا۔

چاہئیے تو یہ تھا کہ لیفٹننٹ کرنل اسفند ایک باضابطہ شکایت کے طریقے سے اپنی اہلیہ کیساتھ طلبہ کی طرف سے ہوئی زیادتی پر کاروائی کرواتے ۔۔۔۔۔۔ مگر اہلیہ/ گھر کی خاتون کیساتھ اگر ایسی حرکت ہو تو کوئی بھی انسان غیرت اور غصے میں ہوش وحواس سے کام لینے میں غلطی کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود فوج میں احتساب کا کڑا نظام ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔