اتنا غصہ آتا ہے تو ایسا بندہ سروس میں اتنا وقت کیسے نکال گیا؟ رائے ثاقب کھرل کا سوال

فوجی یونیفارم یا پولیس کا یونیفارم تو بہت دور کی بات یونیورسٹی کے بچوں کے احتجاج میں کوئی سادہ کپڑوں میں بھی پستول نکالتا اور فائرنگ کرتا تو اس سے بڑی کوئی حماقت ہو ہی نہیں سکتی؛ اینکرپرسن کا بیان

Sajid Ali ساجد علی پیر 24 اگست 2026 16:56

اتنا غصہ آتا ہے تو ایسا بندہ سروس میں اتنا وقت کیسے نکال گیا؟ رائے ثاقب ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اگست 2026ء) وفاقی دارالحکومت کی ایک مقامی یونیورسٹی میں فوجی افسر کی آمد اور فائرنگ کے ناخوشگوار واقعے پر تجزیہ کار اور اینکرپرسن رائے ثاقب کھرل نے شدید تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں رائے ثاقب کھرل کا کہنا تھا کہ فوجی یونیفارم یا پولیس کی وردی تو بہت دور کی بات ہے، کسی بھی یونیورسٹی کے طالب علموں کے احتجاج کے دوران سادہ کپڑوں میں بھی پستول نکالنا اور فائرنگ کرنا ایک انتہائی تشویشناک اور احمقانہ عمل ہے، طلباء کے سامنے اس طرح کا اشتعال انگیز رویہ کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے افسر کے رویے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ اگر کسی شخص میں اتنا شدید غصہ اور عدم برداشت ہے، تو ایسا بندہ اپنی سروس میں اتنا طویل وقت کیسے گزار گیا، انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ذمہ دار عہدے پر موجود شخص نے اس طرح کا جذباتی اقدام کیوں اٹھایا۔

(جاری ہے)

اپنے بیان کے اختتام پر رائے ثاقب کھرل نے توقع ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے اور عسکری حکام اس واقعے کا مکمل نوٹس لیں گے اور بغیر کسی رعایت کے مکمل میرٹ پر تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی شخص اس طرح قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرے۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے عسکری ادارے نے ملوث فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لے کر ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا، معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق اسلام آباد کی ایک مقامی یونیورسٹی میں اس وقت ایک ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی جب ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ وہاں بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا، واقعہ رونما ہونے پر خاتون نے فون کرکے متعلقہ افسر کو موقع پر بلا لیا، جس کے بعد یونیورسٹی کے احاطے میں تنازعہ اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ عسکری ادارے نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنے فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے انکوائری شروع کر دی گئی ہے، ملٹری ڈسپلن اور ضوابط کی خلاف ورزی پر مذکورہ افسر کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی تاکہ قانون اور فوجی نظم و ضبط کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس معاملے پر صحافی طارق متین نے بتایا کہ یونیورسٹی فون کیا تو تصدیق کی گئی کہ افسر کے ساتھ موجود خاتون وہاں کام کرتی ہیں ان کا کسی اسٹاف ممبر سے تنازعہ تھا، یہ معاملہ کوئی مہینے سے زائد عرصہ ہوا چل رہا تھا جو آج بگڑ گیا، فوٹیج میں نظر آ رہا ہے کہ انہوں نے ہوائی فائر کرنے سے پہلے گولی چلانے کی کوشش کی جو نہیں چل سکی ورنہ بہت نقصان ہو سکتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آرمی کے تحریری ضابطوں کے مطابق اس طرح عوامی مقام پر اسلحہ ساتھ نہیں رکھا جا سکتا، ان آفیسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، ایک سابق فوجی افسر نے کہا ہے کہ ممکن ہی نہیں ملوث افسر اب نوکری پر برقرار رہ سکیں، کیوں کہ 2019ء میں ایک واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا تھا وہاں ایک میجر نے ایک بچے پر تشدد کر دیا تھا تو انہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا تھا۔