اسرائیل کو 78 سال بعد ’’الٹالینا‘‘ جہاز کا ملبہ مل گیا

DW ڈی ڈبلیو پیر 24 اگست 2026 17:00

اسرائیل کو 78 سال بعد ’’الٹالینا‘‘ جہاز کا ملبہ مل گیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 اگست 2026ء) جہاز کی غرقابی کا واقعہ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد پیش آیا تھا اور اس نے نئی قائم ہونے والی ریاست کے اندر گہری سیاسی اور عسکری تقسیم کو نمایاں کر دیا تھا، جس کے اثرات اسرائیلی سیاست میں آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

الٹالینا فرانس سے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچا تھا۔ یہ ہتھیار مسلح یہودی تنظیم ارگن کے لیے تھے، جو اسرائیل کے قیام سے قبل برطانوی نوآبادیاتی حکام اور مقامی فلسطینی آبادی کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتی رہی تھی۔

جون 1948 میں اسرائیل کے قیام کے محض ایک ماہ بعد پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون کے حکم پر اسرائیلی فورسز نے تل ابیب کے ساحل کے قریب اس جہاز پر فائرنگ کی اور اسے غرق کر دیا۔

(جاری ہے)

بن گوریون نئی ریاست میں تمام مسلح قوتوں کو ایک مرکزی فوج کے ماتحت کرنا چاہتے تھے اور کسی متوازی مسلح تنظیم کو برقرار رکھنے کے مخالف تھے۔

اس کارروائی میں ارگن کے 16 ارکان اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ارگن کے سربراہ مناحم بیگن نے اپنے جنگجوؤں کو اسرائیلی حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔ ان کا مشہور مؤقف تھا کہ جب دشمن سرحدوں پر موجود ہو تو ملک کے اندر خانہ جنگی نہیں ہونی چاہیے۔

یہ تنازعہ بعد میں اسرائیلی سیاست کے دو بڑے دھڑوں کی علامت بھی بن گیا۔ ایک طرف بن گوریون کی قیادت میں سوشلسٹ سیاسی تحریک تھی اور دوسری جانب بیگن کی قوم پرست دائیں بازو کی سیاست۔

1977 میں بیگن وزیر اعظم بنے اور ان کی کامیابی نے اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کے عروج کی بنیاد مضبوط کی۔

اسرائیلی وزیر برائے ورثہ امیخائی الیاہو کے مطابق جہاز کا ملبہ اسرائیلی ساحل کے مغرب میں تقریباً 503 میٹر کی گہرائی میں ملا اور بڑی حد تک سالم حالت میں موجود ہے۔ انہوں نے الٹالینا کے واقعے کو اسرائیل کا ایک ''گہرا قومی زخم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیگن نے خانہ جنگی روک کر تاریخی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تھا۔

اسرائیل نے 2008 میں تل ابیب کے ساحل پر الٹالینا واقعے میں ہلاک ہونے والے ارگن ارکان کی یادگار بھی تعمیر کی تھی جبکہ کئی برسوں سے اس غرق ہونے والے جہاز کے ملبے کی تلاش کا کام بھی جاری تھا۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ سمندر سے ملنے والے اس ملبے کو اب کہاں رکھا جائے گا یا اسے کسی میوزیم کا حصہ بنایا جائے گا۔