اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 اگست 2026ء) سات اگست کو ایک 14 سالہ طالب علم نے پہلے اپنے دادا دادی کو قتل کیا اور پھر دادا کی پستول لے کر بینکاک کے قریب اپنے اسکول پہنچا، جہاں اس نے پانچ اساتذہ اور عملے کے ارکان سمیت ایک 12 سالہ طالب علم کو ہلاک کر دیا۔ بعد میں حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار لی۔
تھائی لینڈ
جنوب مشرقی ایشیا میں شہریوں کے پاس اسلحے کی سب سے زیادہ شرح رکھنے والا ملک ہے۔ اسمال آرمز سروے کے 2017 کے تخمینے کے مطابق ملک میں شہریوں کے پاس تقریباً ایک کروڑ تین لاکھ آتشیں ہتھیار تھے یعنی ہر 100 افراد کے مقابلے میں تقریباً 15 ہتھیار۔ ان میں 60 لاکھ سے کچھ زیادہ رجسٹرڈ جبکہ 40 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ تھے۔تھائی لینڈ
میں آتشیں اسلحے سے اموات کی شرح بھی ایشیا میں بلند ترین شمار ہوتی ہے۔(جاری ہے)
گزشتہ چند برسوں میں تھائی لینڈ ہتھیاروں سے جڑے متعدد واقعات دیکھ چکا ہے۔
2020 میں ناکھون راتچاسیما کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ سے تقریباً 30 افراد ہلاک ہوئے، 2022 میں ایک چائلڈ کیئر سینٹر پر حملے میں 37 افراد مارے گئے جبکہ 2023 میں بینکاک کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کے بعد اسلحہ قوانین سخت کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔بظاہر تھائی لینڈ میں ہتھیاروں سے متعلق قوانین سخت ہیں۔ بندوق خریدنے، رکھنے اور ساتھ لے کر چلنے کے لیے الگ اجازت درکار ہوتی ہے لیکن قوانین اور ان کے نفاذ میں اہم خامیاں موجود ہیں۔
اسلحہ رکھنے کا لائسنس تاحیات ہوتا ہے، درخواست دینے والوں کے لیے ذہنی صحت کی لازمی جانچ نہیں اور لائسنس رکھنے والوں کا باقاعدہ دوبارہ جائزہ بھی نہیں لیا جاتا۔ایک اور مسئلہ غیرقانونی مارکیٹ اور سرکاری اہلکاروں کے لیے چلائی جانے والی رعایتی ''ویلفیئر گن‘‘ اسکیمیں ہیں۔ ناقدین کے مطابق پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کو رعایتی قیمتوں پر ملنے والے بعض ہتھیار بعد میں سیکنڈری مارکیٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ میں غیرقانونی بندوق حاصل کرنا بھی نسبتاً آسان ہے۔حالیہ حملے کے بعد وزیر اعظم انوتن چارن ویراکول نے نئے اسلحہ پرمٹس کا اجرا معطل کر دیا ہے اور موجودہ لائسنسوں کے جائزے کا حکم دیا ہے۔ حکومت لائسنس کی مدت محدود کرنے، طبی جانچ سخت کرنے، سزائیں بڑھانے اور غیر رجسٹرڈ ہتھیار واپس کرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم پر بھی غور کر رہی ہے۔
مسئلہ صرف تھائی لینڈ تک محدود نہیں۔ فلپائن میں بھی حالیہ اسکول فائرنگ کے واقعات میں ایسے ہتھیار استعمال ہوئے جو حملہ آور نوجوانوں کے رشتہ داروں یا سرکاری اہلکاروں کے نام پر قانونی طور پر رجسٹرڈ تھے۔ اس سے یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ اگر قانونی بندوق کسی بچے یا غیر مجاز شخص کے ہاتھ لگ جائے تو اصل مالک کی ذمہ داری کیا ہونی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں مسئلہ صرف کمزور قوانین نہیں بلکہ قوانین اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان خلا ہے۔ لاکھوں بندوقیں پہلے ہی گردش میں ہیں اور قانونی و غیرقانونی مارکیٹوں کے درمیان ہتھیاروں کی منتقلی کے ساتھ سرحد پار اسمگلنگ بھی مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے۔
اس کے علاوہ تھائی معاشرے میں بندوق کو بعض اوقات طاقت، تحفظ اور سماجی حیثیت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کے مطابق محض نئے قوانین کافی نہیں ہوں گے۔ اسلحہ محفوظ رکھنے کے سخت ضوابط، لائسنسوں کی باقاعدہ تجدید، مالک کی قانونی جواب دہی اور پولیس اور فوج کے اہلکاروں کے ذریعے نکلنے والے ہتھیاروں کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہوگی۔