مولانا فضل الرحمان کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے، منیب فاروق

مولانا فضل الرحمان کی لڑائی یہ ہے کہ یہ جو نظام چل رہا ہے، اس میں پہلے اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی حکومت گرانے میں ان کا استعمال کیا، آگے جب وقت آیا تو ان کو ان کا حصہ نہیں ملا؛ اینکرپرسن کا دعویٰ

Sajid Ali ساجد علی پیر 24 اگست 2026 17:22

مولانا فضل الرحمان کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے، منیب فاروق
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اگست 2026ء) اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے ملکی سیاسی صورتحال، جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے متحرک ہونے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق جاری تنازعہ پر اپنے تجزیے کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم دعوے کیے ہیں۔ اس حوالے سے اپنے وی لاگ میں منیب فاروق کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی اصل لڑائی اور ناراضگی موجودہ سیاسی نظام سے ہے، کیوں کہ مولانا صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ سیاسی طور پر ہاتھ ہوا ہے، ان کے بقول اسٹیبلشمنٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت گرانے میں مولانا کا استعمال کیا، لیکن جب اقتدار کا وقت آیا تو انہیں ان کا جائز سیاسی حصہ نہیں دیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی کے مقدمات اور ہسپتال منتقلی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ تمام اقدامات صرف شہباز شریف حکومت کر رہی ہے، تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق تمام اہم فیصلے 'ہائبرڈ رجیم' مل کر کرتی ہے، اس وقت کوئی ڈیل یا ڈھیل وجود نہیں رکھتی اور فی الحال بانی پی ٹی آئی کو کسی قسم کی رعایت دینے کا امکان نہیں ہے، پہلے دن ہی یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ عمران خان کو صرف سرکاری ہسپتال لے جایا جائے گا اور محسن نقوی نے شفا ہسپتال منتقلی کی کوئی کمٹمنٹ نہیں کی تھی۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اب اپنی سیاسی ولدیت تبدیل کرنے کا سوچ لیا ہے، سہیل آفریدی کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ عمران خان کو نجی ہسپتال نہ بھیجنے کا فیصلہ ن لیگ کا تھا اور اسٹیبلشمنٹ انہیں شفا ہسپتال بھیجنا چاہتی تھی، ابھی ایک ماہ قبل یہی پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ روڈ پر پولیس افسران سے پوچھا کرتے تھے کہ کس کرنل یا برگیڈیئر کے حکم پر ان کا راستہ روکا جا رہا ہے، اور آج اچانک انہیں اسٹیبلشمنٹ اچھی لگنے لگی ہے۔