برائیڈن کارس کے معاملے میں مبینہ تشدد کی تحقیقات شروع

جمعرات 27 اگست 2026 18:55

ڈربی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 اگست2026ء) انگلینڈ کے باؤلر برائیڈن کارس کو نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑی لگانے کے واقعے کی ڈربی شائر پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ تشدد کے الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں فاسٹ باؤلر برائیڈن کارس کو ڈربی میں وقت گزارنے کے دوران پولیس اہلکاروں کے نرغے میں اور ہتھکڑی لگے دیکھا جا سکتا ہے۔

31 سالہ کھلاڑی برائیڈن کارس کو عارضی طور پر نشے میں دھت ہونے اور بدنظمی پھیلانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی)نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کرکٹ ریگولیٹر کرے گا اور اس کے نتیجے میں برائیڈن کارس کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلش سکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

تاہم انہیں گلوسٹر شائر کے خلاف ڈرہم کی کاؤنٹی چیمپئن شپ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈربی شائر پولیس نے بتایا تھا کہ ایک شخص کو مولی مالونز بار کے باہر کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ 30 سے 40 سال کے درمیان عمر کے ایک شخص کو ہفتے کی رات ڈربی سٹی سینٹر میں نشے کی حالت میں بدنظمی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم علاقے سے چلے جانے کی رضامندی پر اسے کچھ ہی دیر بعد رِہا کر دیا گیا۔ پولیس نے مزید ایک بیان میں کہا کہ ہم ڈربی سٹی سینٹر میں مبینہ تشدد کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں، ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔ برائیڈن کارس سے اس حوالے سے ردِعمل مانگا گیا ہے جبکہ ای سی بی نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔