سرحد یونیورسٹی سے احتجاجی طلباء نکالے جانے کی خبریں غلط ہیں، کیمپس ڈائریکٹر

یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کی انکوائری کر رہی ہے، طالب علم کی اسلام آباد سے لاش ملنے کی افواہ کو کیمپس سے جوڑنا بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، ڈاکٹر ندیم کی صحافی سید ذیشان عزیز سے گفتگو

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 28 اگست 2026 17:00

سرحد یونیورسٹی سے احتجاجی طلباء نکالے جانے کی خبریں غلط ہیں، کیمپس ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اگست2026ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں کرنل اسفند یار اور طلباء کے درمیان ہنگامہ آرائی کے بعد احتجاج کرنے والے طلباء کو یونیورسٹی سے نکالے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ان خبروں کی تردید کردی ہے۔  سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس ‘ پر صحافی سید ذیشان کا کہنا تھا کہ سرحد یونیورسٹی کے کیمپس ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم سے ان خبروں کے حوالے سے بات کی، جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

کیمپس ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ یہ خبریں بالکل غلط ہیں اور ابھی تک کسی بھی طالب علم کو یونیورسٹی سے نہیں نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کی انکوائری کر رہی ہے اور طلباء و مینجمنٹ کے ساتھ تحقیقات کا عمل تاحال جاری ہے۔

(جاری ہے)

 

سید ذیشان عزیز کے مطابق انہوں نے ایک طالب علم کی اسلام آباد سے لاش ملنے کی افواہوں کے حوالے سے بھی کیمپس ڈائریکٹر سے سوال کیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اس کا تعلق سرحد یونیورسٹی سے ہے۔

ڈاکٹر ندیم نے اس خبر کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے کسی بھی طالب علم کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ کیمپس ڈائریکٹر نے طلباء کے اخراج اور طالب علم کی لاش ملنے سمیت دیگر افواہوں کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ تاحال طلباء کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی انکوائری جاری ہے۔