جعلی کرنسی رکھنے کا مقدمہ، لاہور ہائیکورٹ میں ملزم کی ضمانت منظور

ملزم کے خلاف جعلی کرنسی بنانے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام کی تائید میں کوئی قابل قبول ثبوت بھی موجود نہیں. جسٹس امجد پرویزملک کے ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 28 اگست 2026 16:45

جعلی کرنسی رکھنے کا مقدمہ، لاہور ہائیکورٹ میں ملزم کی ضمانت منظور
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 اگست ۔2026 ) لاہور ہائیکورٹ نے دو لاکھ روپے کی جعلی پاکستانی کرنسی رکھنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم محمد سرور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا، جسٹس محمد امجد پرویز نے ملزم کا اعترافی بیان ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف جعلی کرنسی بنانے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام کی تائید میں کوئی قابل قبول ثبوت بھی موجود نہیں.

(جاری ہے)

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور اتنی ہی رقم کے ایک ضامن کے عوض رہائی کا حکم دیا، فیصلے کے مطابق محمد سرور کے خلاف ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور میں دو مارچ دو ہزار چھبیس کو مقدمہ درج کیا گیا، مقدمہ جعلی کرنسی سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات 489-B اور 489-C کے تحت درج ہوا.

ایف آئی اے کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ایک مصروف عوامی مقام سے گرفتار کیا گیا اور اس کی تلاشی کے دوران 2 لاکھ روپے کے جعلی کرنسی نوٹ برآمد ہوئے، برآمد ہونے والے دو سو نوٹ ایک ہزار روپے مالیت کے تھے . ایف آئی اے کا یہ بھی الزام تھا کہ ملزم نے گرفتاری کے وقت گزشتہ ایک سال سے جعلی نوٹ بنانے اور فروخت کرنے کا اعتراف کیا، عدالت نے قرار دیا کہ گرفتاری ایک مصروف عوامی مقام پر ہوئی، لیکن کارروائی کے دوران کوئی آزاد گواہ شامل نہیں کیا گیا، ریکارڈ پر ملزم کے خلاف جعلی کرنسی بنانے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام کی تائید میں کوئی قابل قبول ثبوت بھی موجود نہیں.

عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کا مبینہ اعترافِ جرم قابل قبول ثبوت نہیں اور کسی سابقہ یا ممکنہ خریدار کا بھی کوئی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں، جسٹس امجد پرویز نے فیصلے میں لکھا کہ صرف جعلی کرنسی اپنے قبضے میں رکھنا دفعہ 489-B کے جرم کے لیے کافی نہیں، عدالت کے مطابق موجودہ شواہد زیادہ سے زیادہ دفعہ 489-C کے تحت معاملہ بناتے ہیں، اس دفعہ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہے اور یہ جرم ضمانت کی ممانعت والی شق میں شامل نہیں ہوتا.

عدالت نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم موجودہ ریکارڈ مزید تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے، اسلئے ملزم ضمانت کا حقدار ہے عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ضمانت کسی ملزم کو سزا دینے کےلئے نہیں روکی جا سکتی اور جرم ثابت ہونے تک ملزم بے گناہ تصور ہوتا ہے.