افتخارگیلانی کو نون لیگ کشمیر کے صدر شاہ غلام قادرنے ووٹ نہیں دیا

نومنتخب وزیراعظم دومرتبہ عام انتخابات ہار چکے ہیں‘جنہوں نے وزیر اعظم بنوایا اختیار ان کے ہاتھ میںہوگا. شاہ غلام قادرکی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 28 اگست 2026 17:45

افتخارگیلانی کو نون لیگ کشمیر کے صدر شاہ غلام قادرنے ووٹ نہیں دیا
مظفرآباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 اگست ۔2026 ) آزادجموں و کشمیر کے 17ویں وزیر اعظم منتخب ہونے والے افتخار گیلانی کو 30 اراکین اسمبلی کے ووٹ ملے، جبکہ ان کی جماعت کے صدر شاہ غلام قادرنے انہیں ووٹ نہیں دیاان کے مخالف پاکستان پیپلز پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار مختار احمد عباسی 14 ووٹ حاصل کر پائے حالیہ ریاستی اسمبلی کے عام انتخابات میں مظفر آباد کے حلقے سے مختار احمد عباسی نے ہی افتخار گیلانی کو شکست دی تھی.

(جاری ہے)

کشمیر کی قانون سازاسمبلی میںمسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 32 تاہم کشمیر میں مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی ہی پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار افتخار گیلانی کو ووٹ نہیں دیا یاد رہے کہ شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے تاہم پارٹی کی جانب سے ان کی نامزدگی نہیں کی گئی تھی جس پر انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے.

حالیہ عام انتخابات میں بیرسٹر افتخار گیلانی دارالحکومت مظفر آباد سے نون لیگ کے امیدوار تھے تاہم انہیں پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی نے شکست دی بعدازاں وہ مخصوص نشست پر نامزدگی کے ذریعے اسمبلی پہنچ گئے افتخار گیلانی 2021 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی شکست سے دوچار ہوچکے ہیں. ٹیکنوکریٹ نشست پر کشمیر اسمبلی کا حصہ بننے والے افتخار گیلانی کو گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تھا ان کی بطور وزیر اعظم نامزدگی پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے افتخار گیلانی نے کہا کہ مخصوص نشست پر منتخب ہو کر اسمبلی کا حصہ بننے پر نہ تو کوئی آئینی پابندی ہے اور نہ ہی اخلاقی ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے یہ پہلے بھی ہو چکا ہے.

یاد رہے کہ اس سے قبل نون لیگ کے حامی مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالقیوم خان علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر کامیاب ہونے کے بعد 1991 سے 1996 تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم رہے تھے مسلم لیگ نون کی آزادجموں وکشمیر کی قیادت کے افتخار گیلانی کی بطور وزیر اعظم نامزدگی پر تحفظات ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے.

آزاد کشمیر مسلم لیگ نون کے صدر شاہ غلام قادر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افتخار گیلانی کی نامزدگی پر سخت اصولی اختلاف ہے انہوں نے کہا کہ ایسا شخص جو پچھلے دونوں الیکشن ہار گیا اسے وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں ہونا چاہیے اس سے مسلم لیگ نون کے’ ’ووٹ کو عزت دو“ کے موقف کو نقصان پہنچتا ہے. انہوں نے کہا کہ ان کا افتخار گیلانی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کو میری شکل پسند نہیں تو جماعت میں سے کسی بھی ایسے شخص کو وزیر اعظم بنانا چاہیے تھا جو کم از کم براہ راست انتخابات جیت کر آیا ہو‘ہمیں اس نامزدگی پر سخت تحفظات تھے وزیر اعظم صرف اس شخص کو بننا چاہیے جو براہ راست عوام سے ووٹ لے کر آئے ’ہم نے نامزدگی کا اختیار پارٹی کے قائد نواز شریف کو دیا تھا تاہم ہماری اس حوالے سے نواز شریف سے بات نہیں ہو سکی مگر ہم نے اپنے تحفظات پہنچا دیے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارٹی کے کسی اور منتخب رکن کو افتخار گیلانی کو ووٹ دینے سے منع نہیں کیا تاہم چند سنیئر افراد کے بھی اس حوالے سے اختلافات ہیں چونکہ اس مرتبہ باقی تمام منتخب ارکان نئے ہیں اس لیے شاید انہیں پارلیمانی معاملات کا زیادہ ادراک نہیں ہے . انہوں نے کشمیر کے صدر کے عہدے کی پیشکش مسترد کرنے کے حوالے سے کہا کہ صدر بننے کا کیا فائدہ ہے؟ پارلیمنٹ سے باہر رہ کر کیا ہو گا؟ ہم نے ساری عمر عوام کے درمیان گزاری ہے اب ایوانِ صدر میں بیٹھ کر کیا کر پائیں گے غیر منتخب سیاستدان کے وزیر اعظم بننے سے حق حکمرانی کے حق میں پہلے سے احتجاج کرنے والے عوام کی ناراضگی مزید بڑھنے کے امکان سے متعلق شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ یہ سب تو انہیں سوچنا چاہیے جنہوں نے انہیں وزیر اعظم بنوایا کیونکہ اب اختیار تو انہیں آگے لانے والوں کے ہاتھ میں ہے.