اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے. سینیٹر پرویز رشید

پمزجیسے المیے روز پاکستان کی تقدیر بن چکے ، ہم ایک نئے المیے کا استقبال کرتے ہیں ، یہ سب ختم نہیں ہو گا، انکوائری بھی ہو اور سزا بھی ہو ، مگر اس سے پہلے بھی انکوائریاں ہوئیں، سزائیں بھی ہوئیں. اراکین کاسینیٹ اجلاس میں اظہارخیال

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 28 اگست 2026 16:51

اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے. سینیٹر ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 اگست ۔2026 ) لیگی سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی لگائی جائے، اس پابندی سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں بہتری آئے گی جمعہ کہ سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پمزجیسے المیے روز پاکستان کی تقدیر بن چکے ہیں، ہم ایک نئے المیے کا استقبال کرتے ہیں ، یہ سب ختم نہیں ہو گا، انکوائری بھی ہو اور سزا بھی ہو ، مگر اس سے پہلے بھی انکوائریاں ہوئیں، سزائیں بھی ہوئیں.

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی ہونی چاہئے، اس پابندی کے بعد مہینوں میں سرکاری ہسپتالوں کا حال بہترین ہو گا، جو سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہ کرائے وہ نوکری سے جائے. پرویز رشید نے کہا کہ جو شخص سرکاری تنخواہ لے وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرے تو ٹرانسپورٹ بہتر ہو جائے گی، سی ایم ایچ کی آپ ہمیشہ تعریف سنیں گے کیونکہ فوج کے نچلے عملے سے اوپر افسر تک سب سی ایم ایچ سے علاج کراتے ہیں سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مصطفی کمال بھی موجود تھے، اس موقع پر سینیٹر فلک ناز چترالی نے سانحہ پمز پر وفاقی وزیر صحت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں دو ہسپتال سنبھلتے نہیں، اچھل اچھل کر کہتے ہیں نیا صوبہ بنائیں گے، وزیر صحت سینیٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے.

سینیٹر فلک ناز چترالی نے وفاقی وزیر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ میں اس دن پمز گئی، سکیورٹی گارڈز نے ہمیں دھکے دےکر باہر نکال دیا، بچے شاپنگ بیگ میں والدین کو دیے گئے،کہا کہ کسی کو بتانا نہیں، یہاں سے چلے جا، اس سارے معاملے پر وزیر صحت اور حکومت قصور وار ہے. سینیٹر سعدیہ عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی تقرری کے بورڈ میں موجود تھی، میں نے تقرری کی بہت مخالفت کی تھی، بیوروکریسی نے اس ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو لگانے کی بہت حمایت کی تھی، ای ڈی پمز اتنا اثر و رسوخ والا انسان ہے سعدیہ عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو تو معطل کردیا،ای ڈی پمز کو معطل نہیں کرسکے ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی رسائی ایسی جگہ ہے جہاں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، ای ڈی پمز اس واقعے کا قصور وار ہے،اسے تو گرفتار کرنا چاہیے تھا، یہ شخص قاتل ہے.