مسیحی قبرستان کی اراضی کم ہونے پر تشویش، اضافی زمین فراہم کرنے کا مطالبہ

قبرستان کی مبینہ منتقل شدہ اور زیرِ قبضہ اراضی واگزار کرائی جائے، سرفراز فرانسس وکی

جمعہ 28 اگست 2026 19:10

اسلام آباد/راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2026ء) رومن کیتھولک کرسچن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، فاطمہ ولاز ڈھوک اعوان، ہمک اسلام آباد کے زیرِ انتظام مسیحی قبرستان میں تدفین کے لیے جگہ کی شدید قلت کے باعث مسیحی برادری کو مستقبل میں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوسائٹی انتظامیہ نے قبرستان کے لیے فوری طور پر اضافی اراضی فراہم کرنے اور مبینہ طور پر قبضے یا منتقل کیے گئے رقبے کی واگزاری کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوسائٹی کی جانب سے سرکل رجسٹرار، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز، راولپنڈی کو ارسال کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قبرستان کے لیے ابتدائی طور پر تقریباً 10 کنال اراضی مختص کی گئی تھی، تاہم موجودہ ریکارڈ اور دستیاب رقبے کے مطابق تقریباً 4 کنال زمین باقی رہ گئی ہے، جس کے باعث مزید تدفین کے لیے جگہ انتہائی محدود ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق انتظامیہ کے دور میں قبرستان کی تقریباً 25 مرلہ اراضی مختلف افراد کو مبینہ طور پر فروخت یا منتقل کی گئی، جبکہ قبرستان کے مزید رقبے پر بھی مبینہ قبضے اور تجاوزات کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔سوسائٹی انتظامیہ کے مطابق قبرستان کی زمین کے معاملے پر سابق سرکل رجسٹرار قمر رضا کی جانب سے انکوائری رپورٹ بھی جاری کی گئی تھی، جس میں مبینہ طور پر قبرستان کی زمین کو پلاٹس میں تبدیل کرنے اور اس کی منتقلی کے معاملات کی نشاندہی کی گئی، تاہم مذکورہ رپورٹ پر تاحال مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قبرستان کے بعض حصوں پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ قبضے یا تجاوزات کا مسئلہ موجود ہے، جس کے باعث قبرستان کی زمین کے تحفظ اور واگزاری کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کی مدد ضروری ہے۔سوسائٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ سرکل رجسٹرار عافیہ لیاقت کو بھی معاملے سے تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم اب تک مطلوبہ عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

سوسائٹی کے صدر سرفراز فرانسس وکی نے اعلیٰ حکام، محکمہ کوآپریٹو، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان کی اصل زمین اور ریکارڈ کی مکمل چھان بین، مبینہ طور پر منتقل یا قبضے میں لیے گئے رقبے کی نشاندہی اور قانون کے مطابق اس کی واگزاری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ قبرستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ مسیحی برادری کے مذہبی، انسانی اور اجتماعی حقوق سے وابستہ مقدس مقام ہے، اس لیے اس کا تحفظ ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سوسائٹی انتظامیہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان کی زمین کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہونے تک مسیحی خاندانوں کے لیے متبادل تدفین کی جگہ فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے جائیں تاکہ کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی تدفین کے وقت مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سوسائٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر قبرستان کی زمین کے تحفظ، واگزاری اور ذمہ داران کے تعین کے حوالے سے مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :