آئس لینڈ میں ووٹروں نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ریفرنڈم
2 لاکھ 70 ہزار اہل ووٹرز ریفرنڈم میں حصہ لے رہے ہیں‘حالیہ سروے میں مخالفین کی تعداد 51.6 فیصدسامنے آئی تھی
میاں محمد ندیم
اتوار 30 اگست 2026
18:47
(جاری ہے)
یورونیوزکے مطابق تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار اہل ووٹرز ایک ہی سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ کیا آئس لینڈ کو یورپی یونین میں شمولیت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنی چاہیے؟ مثبت ووٹ کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ملک فوری طور پر اس بلاک میں شامل ہو جائے گا بلکہ یہ یورپی کمیشن کے ساتھ نئی بات چیت کا راستہ کھولے گا شمولیت کا حتمی فیصلہ ایک اور ریفرنڈم اور یورپی یونین کے ملکوں کی منظوری کا طالب ہوگا. حالیہ رائے عامہ کے جائزے حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں دھڑوں کے درمیان سخت مقابلے کی نشاندہی کرتے ہیں اس ہفتے ”گیلپ“ ادارے کے ایک سروے میں بات چیت کی بحالی کے مخالفین کو 51.6 فیصد کے ساتھ آگے دکھائے گئے حامی 48.4 فیصد رہے ”ماسکینا“ ادارے کے ایک سابقہ سروے میں حامیوں کو معمولی برتری حاصل تھی خبررساں ادارے”اے پی“ کے مطابق آئس لینڈ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ نے آخری لمحے تک سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی ہے ووٹنگ کے دن سے پہلے ہی ابتدائی ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 20 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی آئس لینڈ کے براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ریکیاوک کے کچھ حلقوں میں دوپہر کے وقت ووٹروں کی آمد کی شرح 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے اسی وقت کے مقابلے میں زیادہ تھی. یہ سیاسی تصادم ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آئس لینڈ کی بحث میں قومی سلامتی کے حساب کتاب کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے خاص طور پر گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کے بعد جس نے پورے شمالی اوقیانوس میں خدشات پیدا کر دیے ہیں آئس لینڈ گرین لینڈ سے صرف 290 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اس کی کوئی دائمی فوج نہیں ہے اور وہ اپنی سلامتی کے لیے نیٹو کی رکنیت اور 1951 سے امریکہ کے ساتھ طے شدہ دو طرفہ دفاعی معاہدے پر انحصار کرتا ہے. اسی لیے یورپی قربت کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی استواری تیز رفتاری سے بدلتے ہوئے خطے میں ملک کو اضافی سیاسی اور سیکورٹی تحفظ فراہم کر سکتی ہے خدشات صرف امریکہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ یوکرین میں روسی جنگ کے تسلسل اور آرکٹک میں بڑھتے ہوئے سٹریٹجک مقابلے نے سکیورٹی ترتیبات کی ازسرنو تشخیص پر مجبور کر دیا ہے جو دہائیوں سے مستحکم نظر آتی تھیں یہ ووٹنگ صرف سلامتی کے گرد نہیں گھومتی کیونکہ معاشی حالات بات چیت کی بحالی کے حامیوں کا ایک اہم ترین محرک ہیں آئس لینڈ کو زندگی کی بلند قیمتوں اور کرونا وبا کے تناظر میں عدم استحکام کا سامنا ہے وہاں کی شرح سود 8 فیصد ہے جو ”رائٹرز“کے مطابق یورپی مرکزی بینک کی 2.25 فیصد کی شرح کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے. شمولیت کے حامیوں کا خیال ہے کہ یونین کی رکنیت اور مستقبل میں یورو کو اپنانے سے زیادہ مالیاتی استحکام اور تجارت اور لین دین کے بعض اخراجات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے تاہم مخالفین کے دھڑے کا ماننا ہے کہ ملک پہلے ہی یورپی انضمام کے بہت سے فوائد سے مستفید ہو رہا ہے وہ یورپی معاشی علاقے (EEA) کا رکن ہے جو اسے سنگل مارکیٹ تک رسائی دیتا ہے اور وہ یونین کا مکمل رکن بنے بغیر بغیر کسی اندرونی سرحدی رکاوٹ کے سفر والے شینگن علاقے کا بھی حصہ ہے. ماہی گیری کا معاملہ شمولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے کیونکہ یہ صنعت آئس لینڈ میں معیشت اور قومی شناخت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے ماہی گیری کے شعبے کو یہ ڈر بھی ہے کہ رکنیت کے نتیجے میں ملک یورپی یونین کی مشترکہ ماہی گیری کی پالیسی کے تحت آ جائے گا جس کے نتیجے میں نئے مچھلی کے شکار کے کوٹے لاگو ہو سکتے ہیں یا یورپی ممالک کے جہازوں کی طرف سے بڑا مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے اور اپنے سمندری حدود پر ریکیاوک کا کامل کنٹرول کم ہو سکتا ہے. دوسری طرف بات چیت کی بحالی کی حامی آئس لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ بات چیت شروع کرنے کا مطلب قومی مفادات سے دستبردار ہونا نہیں ہے اور وہ ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کرے گی جو ماہی گیری کے شعبے کا تحفظ کرے آئس لینڈ نے اپنی معیشت کو متاثر کرنے والے مالیاتی بحران کے بعد 2009 میں یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دی تھی اس کے بعد 2013 میں یورپی یونین سے ناخوش حکومت کے برسرِ اقتدار آنے پر یہ بات چیت معطل ہو گئی تھی. وزیراعظم کرسٹراﺅن فروسٹاڈوٹیر کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اس معاملے کو دوبارہ زندہ کیا گیا اور پھر موجودہ ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا اگر نتیجہ ”ہاں“ کی صورت میں آتا ہے تو آئس لینڈ برسلز کے ساتھ معیشت اور انسانی حقوق سے لے کر زراعت اور ماہی گیری تک درجنوں فائلوں پر طویل مذاکراتی عمل کا آغاز کرے گا ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ”نہ“ کے ووٹ کا مطلب اس معاملے کو دوبارہ بند کرنا ہوگا اور شاید یہ اسے طویل سالوں کے لیے پس پشت ڈال دے گا قابل غور بات یہ ہے کہ یہ ریفرنڈم صرف یورپی یونین کے بارے میں آئس لینڈ کے عوام کے موقف کا امتحان نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر سوال کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ یہ چھوٹا ملک شمالی اوقیانوس میں سکیورٹی اور معاشی توازن کی ازسرنو تشکیل کے درمیان کہاں کھڑا ہونا چاہتا ہے.
مزید اہم خبریں
-
پنجاب کے 11اضلاع میں8ماہ کے دوران 29 بچوں سے زیادتیوں کے واقعات رپورٹ
-
پاکستان پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سب کا مشترکہ ملک ہے، یہاں کوئی آقا اور غلام نہیں. محمود اچکزئی
-
امریکی صحافی ٹکرکارلسن نے صد ر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا
-
آئس لینڈ میں ووٹروں نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ریفرنڈم
-
ٹرمپ ریپبلکن پارٹی پر بوجھ ‘وسط مدتی انتخابات میں صدرکی پالیسیاں ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں. رپورٹ
-
اختلاف کے باوجود کسی سے پسند کرنے کا حق نہیں چھیننا چاہیے، منصور علی خان
-
گجرات میں دلخراش واقعہ؛ 4 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، بوری بند لاش برساتی نالے سے برآمد
-
جمائمہ نے لارڈز کرکٹ اسٹیڈیم سے قاسم، سلیمان اور اپنی فوٹو شیئرکردی
-
فواد چوہدری نے سینیٹر افنان اللہ کے رمیز راجہ کیخلاف ایکشن کے مطالبے کو آڑے ہاتھوں لے لیا
-
دنیا میں امن و استحکام قائم کرنا ہے تو یہ امن ہمارے خطے کے اندر سے ہی سے جنم لے گا. ایرانی صدر
-
پنجاب بار کونسل نے وزیر قانون کو نوجوان وکلا ءکیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنےکی باضابطہ سفارش کر دی
-
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر خودکشی کی کوشش کرنے والے اہلکارکو تادیبی کارروائی کا سامنا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.