ٹرمپ ریپبلکن پارٹی پر بوجھ ‘وسط مدتی انتخابات میں صدرکی پالیسیاں ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں. رپورٹ
طویل جنگ‘مہنگائی‘بیروزگاری میں اضافہ ‘وعدوں کی خلاف ورزی سے پارٹی کا ووٹرناراض ہے‘وسط مدتی انتخابات پارٹی کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہونگے. پارٹی قیادت کے خدشات
میاں محمد ندیم
اتوار 30 اگست 2026
18:42
(جاری ہے)
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ریپبلکن پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ جنگ کا جاری رہنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک مشکل انتخابی امتحان بن گیا ہے خاص طور پر اس لیے کہ ریپبلکن ووٹرز کے ایک حصے نے گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت مہنگائی کم کرنے اور بیرون ملک طویل جنگوں میں امریکہ کی مداخلت سے گریز کے وعدوں کی بنیاد پر کی تھی. امریکی صدر نے تنازع کے آغاز میں توقع ظاہر کی تھی کہ فوجی کارروائیاں تقریباً چار یا پانچ ہفتے جاری رہیں گی تاہم یہ محاذ آرائی اب چھ ماہ تک پہنچ چکی ہے اس صورتِ حال نے ریپبلکن حلقوں میں جنگ کے مقاصد اور اس کی کامیابی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں، خصوصاً یہ کہ نومبر کے انتخابات سے قبل حکومت ووٹرز کے سامنے جنگ کے ایسے کون سے نتائج پیش کر سکے گی جنہیں کامیابی قرار دیا جا سکے. انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ڈیموکریٹس اور انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی مقبولیت میں مسلسل کمی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اپوزیشن کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں ایسی صورت میں ٹرمپ کے لیے اپنی دوسری مدت کے دوسرے نصف میں ایجنڈے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے. سروے کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی جنگ کی حمایت کم ہو رہی ہے رپورٹ کے مطابق ریپبلکنز میں فوجی کارروائیوں کی حمایت مارچ میں 77 فیصد سے کم ہو کر 69 فیصد رہ گئی ہے جبکہ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت کی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے انتخابی دوڑ کے اشارے بھی بعض ایسی ریاستوں میں تبدیلی دکھا رہے ہیں جو پہلے ریپبلکنز کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھی جاتی تھیں 20 اگست کو ”ک±ک پولیٹیکل رپورٹ“ نے ٹیکساس اور آئیوا میں سینیٹ کی نشستوں کے مقابلے کو برابر کی مسابقت قرار دے دیا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ان ریاستوں میں مقابلہ زیادہ سخت ہو سکتا ہے، جنہیں ریپبلکنز کو اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے جیتنا ضروری ہے کچھ ریپبلکن عہدیدار اور پالیسیساز خاص طور پر اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ جنگ کا اثر معاشی مسئلہ بن سکتا ہے لڑائی جاری رہنے کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں اور زندگی کے اخراجات انتخابی بحث میں ایران سے متعلق فوجی اور سیاسی پیش رفت کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں. اس سے خدشہ ہے کہ ووٹر حکومت کی کارکردگی کو ایران کی جنگ سے زیادہ اپنی روزمرہ زندگی پر پڑنے والے معاشی اثرات کی بنیاد پر جانچیں گے ان خدشات کے باوجود ریپبلکن پارٹی کی قیادت ٹرمپ کا کھلے عام مقابلہ کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی کیونکہ پارٹی کے اندر انہیں اب بھی ایک مضبوط انتخابی حمایت حاصل ہے دوسری جانب ریپبلکنز کو ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا صدر کی پالیسیوں کا دفاع بھی کرنا ہے اور وسط مدتی انتخابات میں اپنے امیدواروں کی سیاسی خودمختاری بھی برقرار رکھنی ہے، خصوصاً ایسی ریاستوں میں جہاں نتائج معمولی فرق سے طے ہو سکتے ہیں. ریپبلکن پارٹی کے لیے وقت کا عنصر فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے اگر انتظامیہ نومبر سے قبل جنگ ختم کرنے یا اس کے واضح نتائج سامنے لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے انتخابی اثرات کم ہو سکتے ہیں لیکن اگر جنگ کسی واضح انجام کے بغیر جاری رہی اور معاشی دباﺅ بھی برقرار رہا تو ایران کا تنازع خارجہ پالیسی کے معاملے سے بڑھ کر امریکی ووٹر کے انتخابی فیصلے کا مرکزی مسئلہ بن سکتا ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریپبلکن پارٹی ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے جس میں اسے ٹرمپ کے حامیوں کی حمایت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جنگ اور مہنگائی سے پریشان ووٹرز کا اعتماد بھی بحال کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وسط مدتی انتخابات ایران کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر ایک عوامی ریفرنڈم کی شکل اختیار کر لیں.
مزید اہم خبریں
-
عمران خان کے بچوں کا نائیکوپ مکمل فعال، پاکستان آنے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں، خواجہ آصف
-
10سال بعد پاکستانی ماہی گیروں کی وطن واپسی!اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
-
جو خان ہوگا اور عمران خان کو سپورٹ نہیں کرے گا یہ ہو ہی نہیں سکتا، یونس خان
-
امریکی خاتون ڈاکٹر کے منہ میں زندہ چمگادڑداخل ہوگئی
-
لاہور ٹریفک پولیس نے غلط ای چالان کے خلاف اپیل کی آن لائن سہولت متعارف کروادی
-
گدو 747 میگا واٹ پاور پلانٹ کے اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب کر لی گئیں
-
مکہ معاہدہ:ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کا پہلا اجلاس پیر کو استنبول میں ہوگا
-
پنجاب کے 11اضلاع میں8ماہ کے دوران 29 بچوں سے زیادتیوں کے واقعات رپورٹ
-
پاکستان پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سب کا مشترکہ ملک ہے، یہاں کوئی آقا اور غلام نہیں. محمود اچکزئی
-
27 ستمبر کو عمران خان کی رہائی کیلئے سب کو اپنا وزن اٹھانا پڑے گا، سہیل آفریدی
-
امریکی صحافی ٹکرکارلسن نے صد ر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا
-
آئس لینڈ میں ووٹروں نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ریفرنڈم
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.