گدو 747 میگا واٹ پاور پلانٹ کے اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب کر لی گئیں

اسٹیم ٹربائن کی بحالی سے بجلی کی پیداواری لاگت 13.87 روپے سے کم ہو کر 9.68 روپے فی یونٹ رہنے کی توقع ہے. ترجمان پاورڈویژن

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار 30 اگست 2026 19:19

گدو 747 میگا واٹ پاور پلانٹ کے اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اگست ۔2026 ) گدو 747 میگا واٹ پاور پلانٹ کے اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب کر لی گئی ہیں ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اسٹیم ٹربائن کی بحالی سے بجلی کی پیداواری لاگت 13.87 روپے سے کم ہو کر 9.68 روپے فی یونٹ رہنے کی توقع ہے، منصوبے سے بجلی کی لاگت میں 4.19 روپے فی یونٹ کمی متوقع ہے. گدو پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت میں 297 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔

(جاری ہے)

اضافی 297 میگا واٹ موجودہ پیداوار کے مقابلے میں 66 فیصد اضافے کے برابر ہے جولائی 2022 کے آتشزدگی واقعے کے بعد اسٹیم ٹربائن-16 اور متعلقہ جنریٹر بند ہیں، پلانٹ اس وقت اوپن سائیکل موڈ میں تقریباً 450 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے. موجودہ صورتحال میں گدو پاور پلانٹ ڈسپیچ فہرست میں 11 ویں نمبر پر ہے، مکمل کمبائنڈ سائیکل آپریشن کی بحالی کے بعد پلانٹ 747 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا بحالی کے بعد پلانٹ کی میرٹ آرڈر میں پوزیشن تقریباً 7 ویں نمبر تک بہتر ہونے کی توقع ہے، تفصیلی تیکنیکی اور انجینئرنگ جائزے کے بعد اسٹیم ٹربائن کی بحالی کے لیے پروکیورمنٹ کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے ، جب کہ مرمتی کاموں کی تکمیل اور کمیشننگ کے لیے دسمبر 2028 کا ہدف مقررہے. پاور ڈویژن نے جامع انٹیگریٹی اسسمنٹس مکمل کرنے کے بعد ای پی سی ٹرن کی پیکیج تیار کیا اسٹیم ٹربائن-16 اور متعلقہ آلات کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مسابقتی بولیاں طلب کی گئی ہیں بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے یہ منصوبہ پاکستان کے موجودہ پیداواری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں مدد دے گا، گدو پاور پلانٹ قومی گرڈ اور شمال-جنوب بجلی ترسیل راہداری میں اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے پلانٹ کی مکمل بحالی سے گرڈ کی آپریشنل مضبوطی اور لچک میں اضافہ ہوگا، کم لاگت بجلی کی دستیابی سے مہنگے پیداواری ذرائع پر انحصار کم ہوگا.