Live Updates

امریکی صحافی ٹکرکارلسن نے صد ر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا

جو بھی صدر سنجیدگی سے ایٹمی ہتھیاروں کے پہلے استعمال کے بارے میں سوچتا ہے اسے فوری طور پر اس کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے. کارلسن کی جوکینٹ کے ساتھ انٹرویو میں امریکی صدر پر شدید تنقید

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار 30 اگست 2026 18:48

امریکی صحافی ٹکرکارلسن نے صد ر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اگست ۔2026 ) معروف امریکی صحافی اور قدامت پسندپوڈ کاسٹ میزبان ٹکر کارلسن نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تو انہیں فوری صدارت کے منصب سے ہٹا دینا چاہیے کیونکہ اس آپشن کے بارے میں سوچنا ہی کسی بھی صدر کو اپنے عہدے پر قائم رکھنے کے لیے کافی نہیں ہونا چاہیے.

کارلسن نے کہا کہ جس لمحے کوئی بھی صدر سنجیدگی سے ایٹمی ہتھیاروں کے پہلے استعمال کے بارے میں سوچتا ہے اسے فوری طور پر اس کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے کیونکہ یہ ایک ریڈ لائن ہونی چاہیے کیونکہ ایٹمی حملے سے پوری انسانیت تباہ ہو جائے گی.

(جاری ہے)

ٹکرکارلسن نے یہ بات نیشنل انسداد دہشت گردی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کہی ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف احتجاجاً سال کے شروع میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا.

کارلسن نے اشارہ کیا کہ انہوں نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران ٹرمپ کو ہٹانے کی دو کوششوں کی شدید مخالفت کی تھی اور سوال کیا کہ اگر صدر پہلے ایٹمی حملے پر غور کر رہا ہے تو یہی معیار کیوں لاگو نہیں کیا جاتا انہوں نے کہا کہ فوری طور پر اسے منصب سے ہٹانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی ہے؟ کوئی بھی شخص جو اپنے ماتحتوں یا عملے کی طرف سے اس طرح کی بات چیت کو برداشت بھی کر سکتا ہے وہ تعریف کے لحاظ سے اس منصب کو سنبھالنے کے لائق نہیں ہے.

ٹرمپ نے عوامی طور پر یہ نہیں کہا ہے کہ وہ پہلے حملے میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں کارلسن کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انہوں نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے طرز عمل پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی امریکی وزارت دفاع کے اندر تیار کی جانے والی ایٹمی حکمت عملی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے. وزارت دفاع کے پالیسی امورکے انڈر سیکرٹری ایلبرج کولبی نے ماہ کے شروع میں منعقدہ ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ عہدیدار صدر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو قابل اعتماد اور معقول ایٹمی آپشنز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کینٹ نے ان آپشنز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جن کا سہارا انتظامیہ لے سکتی ہے اگر روایتی فوجی کارروائیوں سے ایران میں وہ نتیجہ حاصل نہ ہو جو ٹرمپ چاہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہم ناواقف ہوں گے اگر ہم یہ سوچیں کہ موجودہ منظر نامے میں ایسا نہیں ہو سکتا بالخصوص اس وقت جب انتظامیہ باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے حالیہ مہینوں کے دوران ٹرمپ اور کارلسن کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے جب کہ ٹکرکارلسن ”میگا“ تحریک اور ٹرمپ کے ایک نمایاں حلیف رہے ہیں اور ان کی انتخابی مہم کے دوران وہ پورے امریکا میں اسٹیج پر ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ کھڑے نظرآتے رہے.

کارلسن کے مطابق اختلافات خارجہ پالیسی کے بارے میں ان کے موقف میں تضاد کی وجہ سے پیدا ہوئے کیونکہ کارلسن ایران کے ساتھ جنگ کے نمایاں ترین مخالفین میں سے ایک بن چکے ہیں ٹرمپ نے پچھلے ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ کے ذریعے کارلسن پر حملہ کیا اور کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن پارلیمنٹ تھامس میسی اور جارجیا سے تعلق رکھنے والی سابق ریپبلکن رکن پارلیمنٹ مارجوری ٹیلر گرین سے ملاقات کے بعد انہیں ایک ”شکست خوردہ“ قرار دیاتھا.

دوسری جانب امریکی تجزیہ نگار اور واشنگٹن کی سیاست پر گہری نظررکھنے والے بائیں بازو کے سنیئرصحافی ومصنف کرس ہیجز‘نینا باﺅل‘سی این این کی وائٹ ہاﺅس کے لیے سابق نامہ نگاراینا کارسی سمیت دیگر کا ماننا ہے ٹکر کارلسن ابھی بھی ”میگاموومنٹ“کے ووٹرزپر اثرورسوخ رکھتے ہیں اور ان کے 2کروڑسے زیادہ فالورزمیں بڑی تعداد قدامت پسند ریپبلکن ووٹرز اورصدرٹرمپ کے ”میگا بیس“کی ہے .

ان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ٹرمپ کا ”میگا بیس“سمجھتا ہے کہ انہیں دھوکا دیا گیا ہے جنہوں نے بھاری تعداد میں ووٹ دے کر وائٹ ہاﺅس تک پہنچایا‘میگا موومنٹ کے ووٹروں نے جنگ کے خاتمے اور معاشی خوشخالی کے لیے ووٹ دیا تھا مگر ٹرمپ نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ایران کے خلاف طویل جنگ شروع کردی تو دوسری جانب انہوں نے اپنے خاندان ‘دوستوں اور قریبی ساتھیوں کو صدارتی پوزیشن کو کاروباری فائدے حاصل کرنے کے لیے کھلی چھٹی دی.

ان کا الزام ہے کہ ٹرمپ خاندان نے صرف اپنے کرپٹوکرنسی کاروبار کے لیے وائٹ ہاﺅس اور صدرکے عہدے کو استعمال کرکے دنیا کی مختلف حکومتوں سے اربوں ڈالرکے فائدے لے کر انہیں انسانی حقوق اور جمہوریت کے خلاف اقدامات کی کھلی چھٹی دی‘دوسری جانب ان کے اقدامات سے امریکا اندرمہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں تاریخی اضافہ ہواجس کی وجہ سے آج ان کا ووٹرٹرمپ خاندان کی مخالفت میں کھڑا نظرآتا ہے.

ان کا کہنا ہے صدرٹرمپ سیاسی جانشین کے طورپراپنی بیٹی ایونکا ٹرمپ کو آگے لارہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ امریکا کی پہلی خاتون صدربنیں تاہم موجودہ صورتحال میں ایونکا ٹرمپ کے لیے 2028کے پرائمری جیتنابھی معجزہ ہوگا‘اسی طرح ان کی کابینہ کے دو اہم اراکین نائب صدرجے ڈی وینس اور وزیرخارجہ مارکوروبیو بھی صدر کے عہدے کے امیدوار ہیں ان کے لیے بھی ٹرمپ انتظامیہ میں کمزورپوزیشن اختیار کرنا ‘سیاسی ومالی فوائدکے الزامات نامزدگی میں بڑی رکاوٹ ہوں گے.
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات