نیپال: سیلابی ریلے میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ

یو این ہفتہ 29 اگست 2026 06:30

نیپال: سیلابی ریلے میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 اگست 2026ء) نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 538 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 1,000 سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں جن میں بڑی تعداد سیاحوں کی ہے۔

نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت میں یہ سیلاب ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے سے آیا جس نے پوری کی پوری آبادیوں کو ملیا میٹ کر دیا اور اپنے راستے میں آنے والے پلوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

Tweet URL

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا)نے نیپالی حکومت کے حوالے سے بتایا کہ سیلاب کے بعد تقریباً 3,750 افراد کو متاثرہ جگہوں سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب چینی حکام کے مطابق، تبت میں تقریباً 560 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

نیپال میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر لیلا پیٹرز یاہیا نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ متاثرین کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دوبارہ سیلاب آنے کے خطرے کے پیش نظر انہیں اپنا دورہ مختصر کرنا پڑا۔

بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

نیپال میں امدادی ٹیمیں ضلع روسوا، نواکوٹ اور دھادنگ میں ایسی آبادیوں تک رسائی کے لیے کوشاں ہیں جن کا رابطہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ متاثرین کے لیے ہنگامی خوراک، 10 ہزار افراد کے لیے تین ماہ کی طبی ضروریات کا سامان، خیمے اور انصرامی معاونت مہیا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، متاثرہ علاقے کی سیٹلائٹ تصاویر اور ان کے تجزیے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے متاثرہ علاقوں میں وبائیں پھیلنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ جنیوا میں ادارے کے ترجمان طارق جاسارویچ نے کہا ہے کہ جب اس پیمانے کی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)کے ترجمان ریکارڈو پیریز نے بتایا ہے کہ سیلاب میں 18 سکول پوری طرح تباہ ہو گئے ہیں جبکہ مزید 20 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے درجنوں سکول دریاؤں کے کنارے پر واقع ہیں جو اب بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ ان حالات میں 10 ہزور بچوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مدد درکار ہے۔

آفات سے متاثرہ خطہ

سیلاب سے متاثرہ علاقہ اپریل 2015 میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے سے بھی شدید متاثر ہوا تھا، جس میں 8,800 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں بھی موسلا دھار بارشوں کے باعث مشرقی اور وسطی نیپال کے مختلف علاقوں میں اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے جن سے 30,000 سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔

آفات سے لاحق خطرات میں کمی لانے کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر (یو این ڈی آر آر) کے سربراہ کمل کشور نے اس سیلاب کی سنگینی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر پہاڑی قدرتی آفت کا کوئی واقعہ طویل عرصہ سے پیش نہیں آیا۔

سیلاب کے اثرات انسانی زندگیوں، روزگار، عمارتوں، بنیادی ڈھانچے، پلوں، پن بجلی کے منصوبوں اور بجلی کی پیداوار سمیت ہر شعبے پر انتہائی وسیع ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیلاب نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پہاڑی ماحولیاتی نظام کس قدر نازک ہیں اور ایسے علاقوں میں آفات سے بروقت آگاہی یقینی بنانا کس قدر مشکل ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) نے دوسرے سیلاب کے ممکنہ خطرے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے کم از کم 93,000 افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر بڑے پیمانے پر مدد کی ضرورت ہے۔