لبنان: عسکری کارروائیوں کے دوران شہریوں کو درپیش خطرات پر تشویش

یو این ہفتہ 29 اگست 2026 06:30

لبنان: عسکری کارروائیوں کے دوران شہریوں کو درپیش خطرات پر تشویش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 اگست 2026ء) جنوبی لبنان میں جنگ سے تباہ شدہ سڑکوں اور بنیادی خدمات کے فقدان سے شہری زندگی سخت مشکلات کا شکار ہے جبکہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مابین عسکری کشیدگی جاری ہے جس سے لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

بدھ اور جمعرات کو حزب اللہ کے ڈرون حملوں اور ان کے جواب میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات کے بعد ملک میں اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفل) نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے دوبارہ سیاسی رابطے اور مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

Tweet URL

یونیفل کی ترجمان کینڈس آرڈیل نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ اگرچہ حالیہ حملے فورس کی جائے تعیناتیسے باہر ہوئے، تاہم تنازع کے اثرات جنوبی لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحد پر قائم بلیو لائن کے اطراف میں مسلسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

امن فورس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی پاسداری کریں جو 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے کی بنیاد تھی۔ مشن نے فریقین سے یہ بھی کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے باہمی رابطوں کے موجودہ طریقہ کار کو بروئے کار لایا جائے۔

نقل و حرکت میں رکاوٹیں

اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں تشدد میں کمی آئی ہے، تاہم یونیفیل نے اپنے زیر عمل علاقے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کی اطلاع دی ہے۔

ان سرگرمیوں میں فوجی و متعلقہ انصرامی نقل و حرکت، عمارتوں اور تنصیبات کی مسماری اور مختلف نوعیت کے گولہ بارود یا میزائل داغے جانا شامل ہے۔

ان حالات میں مقامی آبادی کی نقل و حرکت بھی محدود ہو گئی ہے۔ بہت سے لوگوں کو ایک سے دوسرے گاؤں جانے اور ضروری خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی اداروں اور امن دستوں کو بھی اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے اسی نوعیت کی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

یونیفل لبنانی مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے ساتھ مسلسل رابطہ اور تعاون کر رہا ہے۔ امن دستے نقل و حرکت کے دوران اپنا تحفظ یقینی بنانے اور انسانی امداد کی رسائی برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ انہیں ساحلی شاہراہ پر اسرائیلی فوجی چوکیوں کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کینڈس آرڈیل نے کہا ہے کہ امن دستوں کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے اور اس میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ باعث تشویش ہے۔

مسئلے کے سیاسی حل پر زور

یونیفل کی لبنان میں ذمہ داریاں رواں سال کے اختتام پر ختم ہو جائیں گی۔ اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد پیدا ہونے والا سلامتی کا ممکنہ خلا خطے کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جون میں یونیفل کی موجودگی کے بغیر قرارداد 1701 پر عملدرآمد کے لیے مختلف تجاویز پیش کی تھیں۔

ان تمام تجاویز میں اقوام متحدہ کی کسی نہ کسی صورت میں مسلسل موجودگی بھی شامل ہے تاہم اس کا حجم موجودہ مشن کے مقابلے میں کم ہو گا۔

ان تجاویز کے تحت ایک محدود مشن بلیو لائن کی نگرانی جاری رکھے گا جبکہ ملک میں اقوام متحدہ کے سیاسی دفتر (یو این ایس سی او ایل) کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ امن کے فروغ اور اقوام متحدہ کی مختلف کوششوں میں رابطہ کاری ممکن ہو سکے۔

یونیفل نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات شروع کریں اور ایسے اقدامات اٹھائیں جن سے بلیو لائن کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کے لیے سلامتی اور استحکام بحال ہو سکے۔