نیپال اور چین میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری

یو این ہفتہ 29 اگست 2026 06:30

نیپال اور چین میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 اگست 2026ء) نیپال اور چین میں بدھ کو اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سیکڑوں افراد ہلاک اور لاپتہ ہو گئے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں ایسے متاثرہ علاقوں تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں جن میں سے بیشتر کا دیگر جگہوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے بتایا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہنگامی فنڈ (سی ای آر ایف) سے ابتدائی طور پر 20 لاکھ ڈالر جاری کیے گئے ہیں جو طبی امداد، پناہ گاہوں کے قیام اور صاف پانی کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ادارہ نیپال کے لیے امدادی سامان اور ٹیمیں بھیج رہا ہے۔

(جاری ہے)

ہنگامی مدد کی فراہمی اور ملکی سطح پر اس سلسلے میں جاری کوششوں میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

17 ہزار بچے متاثر

نیپال میں اچانک آنے والا سیلاب پوری کی پوری آبادیوں کو بہا لے گیا یا انہیں باقی علاقوں سے کاٹ کر رکھ دیا۔ سیلاب سے سڑکیں، پل، پن بجلی کی تنصیبات، پانی کی فراہمی کے نظام اور مواصلاتی نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ نیپال کے ضلع روسوا، نوواکوٹ اور دھادنگ میں سیلاب سے کم از کم 17 ہزار بچے متاثر ہوئے ہیں۔ ملک میں یونیسف کی نمائندہ ایلس اکونگا نے کہا ہے کہ روسوا اور دھادنگ کے بچوں نے اپنی زندگیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتے دیکھا جن کے گھر، سکول اور طبی مراکز تباہ ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے اور سیلاب سے بچ جانے والے بچوں کو بیماریوں، غذائی قلت، تشدد اور استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

یونیسف نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں تاہم ہر ضرورت مند بچے تک پہنچنے کے لیے فوری طور پر مزید وسائل درکار ہیں۔

سیکڑوں افراد لاپتا

چین میں حکام کے مطابق، سیلاب کے بعد تقریباً 560 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ملک میں اقوام متحدہ کے دفتر نے بتایا ہے کہ تبت میں بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امدادی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے ہنگامی مدد روانہ کی ہے جس میں ایسی ادویات اور طبی سامان شامل ہے جو تقریباً 10 ہزار افراد کو بنیادی طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ ادارے نے صحت کی سہولیات کی فراہمی جاری کے لیے چھ کثیرالمقاصد خیمے بھی مہیا کیے ہیں۔ یہ سامان ان طبی کارکنوں کی مدد کے لیے دیا گیا ہے جو متاثرہ علاقوں میں نچلی سطح پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف اپی) اور یونیسف نے بھی عملے اور امدادی سامان کے ٹرک متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ان کے تجزیے کے ذریعے تباہی کا جائزہ لینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

گلیشیئر ٹوٹنے سے تباہی

ہمالیہ کی بلند اور انتہائی دشوار گزار وادیوں میں ایک گلیشیئر ٹوٹ کر گرنے کو اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دارالحکومت کٹھمنڈو سے 80 کلومیٹر شمال میں واقع ضلع روسوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ یہ علاقہ اپریل 2015 میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے سے بھی شدید متاثر ہوا تھا جس میں 8,800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ اکتوبر میں بھی شدید بارشوں کے باعث نیپال کے مشرقی اور وسطی علاقوں میں تیز رفتار سیلاب آئے اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی جس سے 30 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔

قدرتی آفات کا بڑھتا خطرہ

اقوام متحدہ کے مطابق، 2030 تک دنیا کو ہر سال درمیانے اور بڑے پیمانے کی تقریباً 560 قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2015 سے 2030 کے درمیان عالمی سطح پر آفات میں 40 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ایسی آفات کی انسانی قیمت کے علاوہ ان کے نتیجے میں ہونے والا سالانہ معاشی نقصان بھی 2.29 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو مسلسل بڑھ رہا ہے۔