Live Updates

آبنائے ہرمز تنازعہ کے بعد سے 6000 ملاح خلیج فارس میں بے یارومددگار

یو این ہفتہ 29 اگست 2026 06:30

آبنائے ہرمز تنازعہ کے بعد سے 6000 ملاح خلیج فارس میں بے یارومددگار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 اگست 2026ء) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل بدستور متاثر ہے اور چھ ہزار ملاح چھ ماہ سے خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے بتایا ہے کہ اگرچہ بعض بحری جہاز اور ان کا عملہ خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، تاہم یہ انتہائی اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ بحری آمدورفت کے لیے اب بھی بڑی حد تک بند ہے۔

دنیا میں تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔

فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً 2,000 بحری جہازوں پر عملے کے 20 ہزار ارکان خلیج فارس میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

'آئی ایم او' کی ترجمان جوزفائن لاتو سانویٹ نے کہا ہے کہ خطے میں ہزاروں بحری کارکن انتہائی خطرناک اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اس بحران کے اثرات مختصر اور طویل، دونوں مدتوں میں انتہائی سنگین ہیں۔

ایندھن، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل کے اہم نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دنیا بھر کے معاشروں اور معیشتوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

'آئی ایم او' نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت کے حق کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، اب تک آبنائے میں دنیا بھر کے بحری جہازوں پر کم از کم 70 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن کے نتیجے میں عملے کے 19 ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات