کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ اس پر قابو پانے کی کوششوں سے تیز، گوتیرش

یو این ہفتہ 29 اگست 2026 06:30

کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ اس پر قابو پانے کی کوششوں سے تیز، گوتیرش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 اگست 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ وبا اسے قابو کرنے کی کوششوں سے کہیں آگے نکل رہی ہے تاہم اسے اب بھی روکا جا سکتا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے مزید مالی وسائل فراہم کرنے کی ہنگامی اپیل کی ہے۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے ایبولا کو کیسے قابو میں لانا ہے، اس کا پھیلاؤ کیسے روکنا ہے اور جانیں کیسے بچانا ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن اس کے لیے بے حسی کے وائرس کو بھی شکست دینا ہو گی کیونکہ بین الاقوامی توجہ، سیاسی ترجیحات اور وسائل انسانی بہتری پر مرکوز نہیں ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایبولا سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے مالی وسائل کی کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے شراکتی اداروں کو وبا سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ مختص کیے جا چکے ہیں۔

ادارے نے ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جامع امدادی منصوبہ بھی شروع کیا ہے جس کی مجموعی لاگت 2.13 ارب ڈالر ہے۔

امدادی وسائل کے لیے اپیل

25 اگست تک جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے 5,713 مصدقہ مریض سامنے آ چکے تھے جن میں سے 2,744 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ہر ہفتے تقریباً 500 نئے مریضوں میں ایبولا کی نشاندہی ہو رہی ہے جبکہ بیماری سے خواتین اور بچے غیر متناسب طور پر زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایک بڑی مالی معاونت کے ذریعے اس منصوبے کے لیے اب تک 48 فیصد وسائل مہیا ہو چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ رقم چند ہی ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔ اضافی وسائل کے بغیر زندگی بچانے کی کارروائیاں تھم جائیں گی جب انہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ایبولا سے نمٹنے کے امدادی منصوبے کے لیے 1.1 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران ایک انسانی المیہ ہے جو خاندانوں اور پوری کی پوری آبادیوں کو شدت سے متاثر کر رہا ہے۔

پانچ بنیادی ترجیحات

اقوام متحدہ نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے کانگو میں ایک اعلیٰ سطحی رابطہ کار کا تقرر بھی کیا ہے جن کی کوششیں پانچ بنیادی ترجیحات پر مرکوز ہیں:

  • عوامی سطح پر رابطے میں اضافہ، تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور خوف و غلط معلومات کا خاتمہ ہو۔
  • نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، تاکہ متاثرہ افراد کی فوری نشاندہی کرکے انہیں الگ رکھا جا سکے۔

  • علاج اور نگہداشت کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا۔
  • محفوظ اور باوقار تدفین کے انتظامات کو وسعت دینا۔
  • ایبولا کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا۔

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ دنیا کے پاس اب بھی اس بحران پر قابو پانے کا موقع موجود ہے لیکن اس معاملے میں عملی قدم اٹھانے میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔