غزہ: اسرائیلی بمباری میں 4 بچے ہلاک، امدادی سامان کا گودام تباہ

یو این ہفتہ 29 اگست 2026 06:30

غزہ: اسرائیلی بمباری میں 4 بچے ہلاک، امدادی سامان کا گودام تباہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 29 اگست 2026ء) گزشتہ پانچ روز کے دوران غزہ میں اسرائیل کی گولہ باری کے نتیجے میں چار بچے ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ حملوں میں امدادی خوراک کا ایک گودام بھی تباہ ہو گیا جبکہ عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کے تعاون سے قائم پانی کی ایک اہم تنصیب کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یونیسف نے بتایا ہے کہ حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں میں دو اور چار سال عمر کے دو لڑکے گولہ باری کے الگ واقعات میں ہلاک ہوئے۔

ایک 10 سالہ بچی اپنے خیمے پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئی جبکہ گزشتہ حملے میں زخمی ہونے والا ایک 16 سالہ لڑکا زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا ہے کہ غزہ میں بچے آج بھی ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں جبکہ زندہ بچ جانے والے بنیادی خدمات اور ضروری اشیا کی تباہی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

یونیسف نے بتایا ہے کہ رواں ہفتے غزہ میں گولہ باری سے تباہ ہونے والے اس کے گودام میں سات لاکھ 70 ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کا غذائی سامان موجود تھا۔ اسی طرح، دیر البلح میں یونیسف کے تعاون سے چلنے والا صاف پانی کا ایک کنواں اور پانی فراہم کرنے والا ایک پلانٹ بھی شدید نقصان سے دوچار ہوا۔ اس تنصیب سے فراہم کیے جانے والے پینے کے صاف پانی پر چار ہزار سے زیادہ لوگ انحصار کرتے تھے جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔

یونیسف نے تنازع کے فریقین بالخصوص اسرائیل پر بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی قانون کا احترام کرنے پر زور دیا ہے جن کے تحت بچوں کی زندگی، حقوق اور شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اور انسانی امداد کی بروقت، محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا لازم ہے۔