اکیس ممالک میں ایک سال کے دوران 20 ملین بچوں کو آن لائن جنسی استحصال یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑا،یونیسف
جمعرات 3 ستمبر 2026 12:59
(جاری ہے)
یونیسیف نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے جنسی استحصال یا زیادتی کا شکار بچوں کی تعداد یقینی طور پر کئی کروڑ تک پہنچتی ہے ۔ یہ تحقیق 2020 سے 2025 کے درمیان 21 ممالک میں تقریباً 21 ہزار انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کے قومی سطح پر نمائندہ سروے کی بنیاد پر کی گئی۔
ان ممالک میں کینیا ، برازیل اور سربیا بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 فیصد رپورٹ شدہ واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوئے جن میں فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نمایاں تھے، مزید 14 فیصد واقعات آن لائن گیمنگ کے دوران پیش آئے۔ میٹا، جو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے نے کہا کہ یونیسیف کے سروے 2020 تک کے عرصے پر مشتمل ہیں جبکہ اس کے بعد کمپنی نے نوعمر صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ میٹا نے یہ بھی کہا کہ واٹس ایپ کو سوشل میڈیا کی بجائے ایک نجی پیغام رسانی کی ایپ سمجھا جانا چاہیے۔ سنیپ چیٹ نے کہا کہ وہ آن لائن جنسی بلیک میلنگ کے خلاف فعال طور پر کارروائی کر رہا ہے جبکہ ٹک ٹاک نے نابالغ صارفین کے تحفظ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کا حوالہ دیا۔ یونیسیف کی رپورٹ میں ایک اہم تشویش یہ بھی سامنے آئی کہ آدھے سے زیادہ واقعات میں مبینہ طور پر ایسا شخص ملوث تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا مثلاً دوست، رشتہ دار یا ساتھی۔ تاہم، 38 فیصد بچوں نے بتایا کہ انہوں نے ملزم کو پہلی بار آن لائن دیکھا تھا۔ تحقیق کے مطابق بچوں سے متعلق ایسے ایک فیصد سے بھی کم واقعات پولیس، سماجی کارکن یا ہیلپ لائن کو رپورٹ کیے گئے۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی توجہ دلائی گئی۔ نو ممالک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 11 لاکھ بچوں نے بتایا کہ ان کی شکل استعمال کرتے ہوئے AI سے تیار کردہ جنسی تصاویر یا وڈیوز بنائی گئیں۔ تحقیق کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات یا خود کو نقصان پہنچانے کے امکانات تقریباً چار گنا زیادہ تھے جبکہ ان میں اضطراب کی سطح بھی دوسرے بچوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ ایسے تجربات بچوں کو شدید جذباتی اور ذہنی تکلیف پہنچاتے ہیں اور بہت سے بچے یہ سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ مدد کے لیے کہاں رجوع کریں۔ یونیسیف نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات مضبوط کریں، AI سے تیار کردہ جنسی مواد سمیت نئی اقسام کے استحصال سے نمٹنے کے لیے قوانین کو جدید بنائیں اور بچوں کے تحفظ اور رپورٹنگ سسٹم کو مزید موثر بنائیں۔مزید بین الاقوامی خبریں
-
سعودی علاقے تبوک میں دو بنگالی نوجوان بھیک مانگتے ہوئے گرفتار
-
کویت میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں چار غیر ملکی گرفتار
-
صدر مملکت آصف زرداری لندن سے پاکستان پہنچ گئے
-
ایرانی میزائل حملوں سے اردن میں امریکی فضائی اڈے پر موجود کئی فوجی طیاروں کو نقصان
-
پاکستان سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں حوثیوں کیخلاف فضائی کارروائی پر غور کررہا ہے
-
بھارتی ریاست اترپردیش میں سہارنپور کی 115 سالہ قدیم مسجد منہدم کرنے پر مودی حکومت کو سیاسی، میڈیا اورسماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا
-
بھارت، نازیبا ویڈیو وائرل ہونے پر باپ اور بھائی کے ہاتھوں 22 سالہ لڑکی قتل
-
لیک شدہ انٹیلی جنس فائلوں نے سوڈان میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو بے نقاب کر دیا
-
سوشل میڈیا اصلاحات پرتنقید مسترد، امریکا سے تعلقات کو کوئی خطرہ نہیں،آسٹریلیا
-
جنگ لڑنے پر دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی، عباس عراقچی
-
برطانیہ کی اسرائیل مخالف پابندیاں اہم ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل
-
امریکا ایران جنگ میں شدت ، تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل کے قریب پہنچ گئی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.