بھارتی ریاست اترپردیش میں سہارنپور کی 115 سالہ قدیم مسجد منہدم کرنے پر مودی حکومت کو سیاسی، میڈیا اورسماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا
بدھ 9 ستمبر 2026 22:02
(جاری ہے)
یہ عجلت میں کی گئی مسماری مقامی ضلعی عدالت کی جانب سے ایک اپیل مسترد کیے جانے کے صرف تین روز بعد عمل میں آئی۔
عدالت نے مسجد کمیٹی کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے مناسب وقت بھی نہیں دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور ممتاز مذہبی تنظیموں نے مشترکہ طور پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ مذکورہ مسجد موجودہ کلکٹریٹ کی عمارت سے بھی پرانی ہے، اسے وقف بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا تھا جس کا (رجسٹریشن نمبر 451) ہے ، جبکہ جس اراضی پر مسجد قائم تھی، تاریخی ریکارڈ میں اسے نجی ملکیت کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر مسجد کی مسماری کی مذمت کی اور اسے اختیارات کا دانستہ غلط استعمال قرار دیا، جس کا مقصد 2027 کے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل اتر پردیش میں فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینا ہے۔ رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ آیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتیں اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک مسلسل عوامی عبادت قانونی طور پر ’’وقف بالاستعمال‘‘ کی واضح تعریف پر پوری اترتی ہے، اور کہا کہ کئی دہائیوں سے کھلے اور مسلسل قبضے کی وجہ سے یہ جائیداد قانون کے تحت تحفظ کی مستحق تھی۔ سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے اس کارروائی کو آئین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریونیو ریکارڈ واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اراضی اصل میں یعقوب خان اور وحید خان کی ملکیت تھی اور مسجد انہی کی جائیداد کے اندر تعمیر کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے من مانی کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی میں وقف بورڈ کو فریق تک نہیں بنایا۔ کیرا نہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کارروائی سے قبل انتظامیہ کی جانب سے انہیں زبردستی گھر میں نظر بند کیے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے مسجد کی مسماری کو ’’قانون اور امن و امان کا مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلڈوزروں کے ذریعے ریاستی سرپرستی میں ’’فوری انصاف‘‘ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد سرکاری انتظامی دفاتر سے پہلے سے موجود تھی۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر سیاسی مفادات کے حصول کے لیے دانستہ طور پر فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ارشد مدنی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلڈوزر تعصب اور انتقامی سیاست کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ مولانا مدنی نے زور دیا کہ یہ مسماری 1991 کے عبادت گاہوں کے قانون (Places of Worship Act)کے ساتھ ساتھ تاریخی وقف مقامات کے تحفظ سے متعلق قانونی دفعات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کمیٹی نے 1911 کی تاریخی دستاویزات، 1957 تک کے بلدیاتی ریکارڈ اور اس امر کا ثبوت بھی پیش کیا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے 1960 سے عمارت میں قائم ذیلی ڈاک خانے کے لیے لیز جاری کی گئی تھی، تاہم حکام نے ان تمام دستاویزات کو نظرانداز کر دیا۔ سماجی کارکنوں اور مبصرین نے نشاندہی کی کہ قانون کے انتخابی اطلاق میں واضح دوہرا معیار نظر آتا ہے اور تاریخی ریکارڈ سے ثابت شدہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو مسماری کے لیے غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مزید بین الاقوامی خبریں
-
ایرانی میزائل حملوں سے اردن میں امریکی فضائی اڈے پر موجود کئی فوجی طیاروں کو نقصان
-
پاکستان سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں حوثیوں کیخلاف فضائی کارروائی پر غور کررہا ہے
-
بھارتی ریاست اترپردیش میں سہارنپور کی 115 سالہ قدیم مسجد منہدم کرنے پر مودی حکومت کو سیاسی، میڈیا اورسماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا
-
بھارت، نازیبا ویڈیو وائرل ہونے پر باپ اور بھائی کے ہاتھوں 22 سالہ لڑکی قتل
-
لیک شدہ انٹیلی جنس فائلوں نے سوڈان میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو بے نقاب کر دیا
-
سوشل میڈیا اصلاحات پرتنقید مسترد، امریکا سے تعلقات کو کوئی خطرہ نہیں،آسٹریلیا
-
جنگ لڑنے پر دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی، عباس عراقچی
-
برطانیہ کی اسرائیل مخالف پابندیاں اہم ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل
-
امریکا ایران جنگ میں شدت ، تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل کے قریب پہنچ گئی
-
نائن الیون حملوں کے بعد 2 فائر فائٹرز نے مجھے 1 عمارت سے جان بچانے کیلئے نکالا تھا، ٹرمپ
-
آبنائے ہرمزمیں 2 امریکی بحری جہازوں ، 8 آئل ٹینکروں ، 10 دیگر جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
-
ہیری اورمیگھن کو شاہی فرائض نہیں ملیں گے، کنگ چارلس کا دوٹوک فیصلہ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.