سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کے خلاف تحریک التوا پر بحث کے دوران ایم کیو ایم ارکان قائد حزب اختلاف کی قیادت میں واک آئوٹ کرگئے

یہ قرارداد ڈھکوسلہ ہے۔ پورا ایوان نثار کھوڑو کو تحریک التوا پر مبارکباد دے رہا ہے، سمجھ نہیں آ رہی کس بات کی مبارکباد دی جا رہی ہے، قائد حزب اختلاف یہ ایوان بار سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکا ہے، پھر بار بار پیپلز پارٹی کو یہ قرارداد کیوں لانی پڑتی ہی میرے ایک رکن نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے، خطاب

جمعہ 4 ستمبر 2026 04:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 ستمبر2026ء) سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کے خلاف نثاراحمد کھوڑو کی تحریک التوا پر گرما گرم بحث کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان قائد حزب اختلاف علی خورشیدی کی قیادت میں ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ کرگئے سرکاری ارکان نے ایم کیو ایم کے اس طرز عمل کو ایک طے شدہ حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

قبل ازیں ایوان سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ یہ قرارداد ڈھکوسلہ ہے۔ پورا ایوان نثار کھوڑو کو تحریک التوا پر مبارکباد دے رہا ہے، سمجھ نہیں آ رہی کس بات کی مبارکباد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایوان بار سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکا ہے۔ پھر بار بار پیپلز پارٹی کو یہ قرارداد کیوں لانی پڑتی ہی میرے ایک رکن نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔

(جاری ہے)

چار دنوں سے تقاریر کیوں ہو رہی ہیں ان کی کارکردگی صفر ہے۔علی خورشیدی نے الزام لگایا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سندھ کی حامی صرف پیپلز پارٹی ہے اور باقی سب سندھ کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ بد انتظامی سب سے زیادہ سندھ میں ہے۔ یہ اپنی ذہنی اختراع نکال رہے ہیں۔ اس قرارداد پر بحث ہونی ہی نہیں چاہئے تھی۔ فضول کی بحث چھیڑی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم ہے۔ہم نے کہا تھا نئے انتظامی یونٹ بنیں۔ سندھ کے 6 ڈویڑن انتظامی یونٹ ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کی روح کے مطابق ان کو با اختیار کریں۔ آپ کی جمہوریت وفاق سے صوبے میں آکر ختم ہو جاتی ہیقائد حزب اختلاف نے سابقہ ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کے 102 ارکان میں سے 98 نے ون یونٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

فیصلہ ہوتا ہے، تاریخ طے کرتی ہے۔علی خورشیدی نے کہا کہ کھڑے ہو کر قرارداد پیش کرنا ڈھکوسلہ ہے۔ ان کے وزیروں کے پاس اختیار نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں صوبے کو بہتر بناو ٴ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مو ٴقف بڑا واضح ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔علی خورشیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم تھی، ایم کیو ایم ہے، ایم کیو ایم رہے گی۔ایم کیو ایم کی تجاویز شامل کیوں نہیں ہوئیں ایم کیو ایم کے رکن نے موقف دیا کہ ہماری پیش کردہ تجاویز میں ایک لفظ بھی غلط نہیں تھا۔

پیپلز پارٹی کے بیانیے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو ہماری تجاویز میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری بات سنی نہیں گئی۔ اگر جمہوری رویہ ہوتا تو ہماری تجاویز پر ضرور بات کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قراردادوں اور تحاریک التوا کے ذریعے اپنی بیڈ گورننس کو چھپانے کی کوش کرتی ہے۔ سندھ کے عوام کو سیاسی نعروں کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

ہم ایسی قرارداد کو قبول نہیں کرتے اور اسی لیے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اس کے بعد علی خورشیدی سمیت ایم کیو ایم کے تمام اراکین نے ایوان سے واک آو ٴٹ کر دیا۔ اس موقع پرشرجیل میمن نے کہا کہ ان لوگوں نے تاریخی موقع پر فلور چھوڑا۔انہوں نے کہا کہ علی خورشیدی کا واک آو ٴٹ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا۔ وہ تاریخی دن پر ووٹنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔

"انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے واک آو ٴٹ کا بہانہ بنا کر اسمبلی کا فلور چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ تاریخی موقع پر ایم کیو ایم نے تاریخی قرارداد کا حصہ بننے سے خود کو دور کر لیا۔شرجیل میمن نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا "جس طرح پی ٹی آئی نے آج بائیکاٹ کیا، ایم کیو ایم بھی واک آو ٴٹ کر کے ایوان سے باہر چلی گئی۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی اراکین کہہ رہے تھے وہ قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ آج پی ٹی آئی کا مو ٴقف سندھ کے سامنے واضح ہو گیا۔ جماعت اسلامی کا مو ٴقف بھی آج سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔اسپیکر نے ایم کیو ایم اراکین سے واک آو ٴٹ نہ کرنے کی اپیل بھی کی لیکن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔