برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم ، 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کم کرکے 8 فیصد کر دیا، بلال اظہر کیانی

ہفتہ 5 ستمبر 2026 17:06

برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم ، 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کم کرکے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 ستمبر2026ء) وزیر مملکت برائے خزانہ ، ریونیو و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس 10 سے کم کرکے 8 فیصد کیا گیا ہے ،ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی چیئرمین شپ نجی شعبے کو دے دی گئی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر کے دورہ کے موقع پر صدر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ملاقات میں سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ،سابق صدور میاں انجم نثار، ملک طاہر جاوید اور اراکین ایگزیکٹو کمیٹی عامر علی، سید سلمان، احد امین ملک اور محسن بشیر سمیت دیگر بھی شریک تھے۔اس موقع پر کمشنر ایف بی آر آمنہ کمال اورشبانہ عزیز بھی اجلاس میں موجودتھیں۔

(جاری ہے)

وزیر مملکت بلال اظہار کیانی نے کہا کہ لاہور چیمبر وزیراعظم کے دل کے بہت قریب ہے، لاہور چیمبر کاملکی معیشت کیلئے انتہائی اہم کردار ہے، پالیسی سازی میں لاہور چیمبر کی تجاویز انتہائی اہم ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ٹیکس وصولی، روزگار اور کاروباری ترقی میں نجی شعبہ اہم ہے، نجی شعبے کو پالیسی سازی میں مرکزی کردار دینا وزیراعظم کا وژن ہے، وزیراعظم گزشتہ ایک سال سے کاروباری برادری کو بھرپور وقت دے رہے ہیں،بجٹ سازی میں نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے ایف بی آر کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، دکانداروں کیلئے آئوٹ آف دی باکس حل دیا گیا، 20 کروڑ روپے تک آمدن والے دکاندار ٹیکس اسکیم میں شامل ہو سکتے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کی گئی۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے مطابق ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا جائے، کاروبار کی زیادہ لاگت اور بجلی کے نرخ صنعت کیلئے بڑا چیلنج ہیں، ہائوسنگ سوسائٹیز کے پھیلا سے زرعی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے، ملک میں بڑھتا انفورسمنٹ کلچر کاروباری ماحول کو نقصان پہنچا رہا ہے، پیرا فورس کاروباری ماحول کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، ایل ڈی اے، روڈا اور ای پی اے کی کارروائیاں صنعت کو متاثر کر رہی ہیں۔

انہوںنے کہا کہ 40، 50 سال پرانی صنعتوں کو بھی منتقلی کے نوٹسز دئیے جا رہے ہیں، کاروباری برادری اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔