آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں،خواجہ سعد رفیق

ہفتہ 5 ستمبر 2026 17:06

آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں،خواجہ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 ستمبر2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریاستی رٹ قائم کرتے کرتے شہریوں کی رٹ ختم نہ کریں، پہلے منتخب پارلیمنٹ بنائیں، پھر چھوٹے صوبے بنائیں،آئین کی پامالی کی صورتحال میں جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں۔لاہور میں نئے صوبوں کی تشکیل پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے، پھر نئے صوبوں کی بات کی جائے، آئین کی توہین کریں گے تو جتنے مرضی صوبے بنا لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا،میں جمہوری آدمی ہوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا حامی ہوں،پہلے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے، پھر نئے صوبوں کی بات کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جو بھی وزیر اعظم بنا، اسے جیل جانا پڑا، گزشتہ حکومت لوگوں کوجیل میں ڈالنے میں مصروف رہی، شاہد خاقان عباسی کو عزت سے بھیجا گیا مگر پھر بھی جیل میں ڈال دیا گیا، 40 سال بعد وہ ایسے چوراہے پر کھڑے ہیں جہاں کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا،سمجھتے ہیں مخالف کودبا کرراستہ بنالیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں لوگ لیڈر کو بت پرستی کی حد تک لے جاتے ہیں اور ہر سیاسی جماعت خاندان کی جاگیر بنی ہوئی ہے، پہلے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے کیونکہ ووٹ کسی کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہو جاتا ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے پہلے مینڈیٹ چوری کا کام شروع کیا گیا، چھوٹے صوبے بنانے سے کیا آبِ حیات پھیل جائے گا ،پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے کوئی امید نہیں کیونکہ ہر جماعت پر ایک خاندان مسلط ہے،گورا انگریز چلا گیا اور کالا انگریز چھوڑ گیا۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جو لوگ خون سے جمہوریت رقم کرتے ہیں وہ اورطریقے سے سوچتے ہیں، آج ایسے چوراہے میں کھڑے ہیں جہاں راستہ نظر نہیں آرہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی مارشل لااعلانیہ اور کئی غیر اعلانیہ لگے، ہر سیاسی پارٹی ایک خاندان کی جاگیر بنی ہوئی ہے، جب ایک ہی خاندان جاگیر ہوتو جمہوریت کیسے دیں گی انہوں نے مزید کہا کہ آج بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، ملک میں ووٹ کسی کو ملتا ہے اور منتخب کوئی ہوجاتا ہے، ریاستی رٹ قائم کرتے کرتے شہریوں کی رٹ ختم نہ کریں۔سعد رفیق نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں آزادکشمیر کی صورتحال بلوچستان جیسی نہ بن جائے، پہلے ایک منتخب پارلیمنٹ بنائیں پھر چھوٹے صوبے بنائیں، پارلیمانی جمہوریت کوپارلیمانی آمریت میں بدلنا بند کریں۔