ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کا کمشنر آفس ملتان کا دورہ

ہفتہ 5 ستمبر 2026 17:14

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 ستمبر2026ء) ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب افتخار علی سہو نے کمشنر آفس ملتان کا دورہ کیا جہاں کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے انہیں ڈویژن کے انتظامی، ریونیو، ترقیاتی، بیوٹیفکیشن اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجیحی اقدامات پر جامع بریفنگ دی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں، منصوبوں کے معیار اور رفتار کا جائزہ لے کر باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں اور فیلڈ افسران عوامی مسائل کے حل کیلئے فیلڈ میں موجود رہیں۔

افتخار علی سہو نے کہا کہ پالیسی سازی صرف فائلوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ گراؤنڈ کی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ فیلڈ افسران کی عملی آراء اور تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے جبکہ کامیاب فیلڈ اقدامات کو دیگر ڈویژنز کیلئے ماڈل کے طور پر اپنایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہر پروگرام کے بعد فیلڈ سے فیڈ بیک لے کر آئندہ کی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی جائے۔

صاف پانی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ صاف پانی اتھارٹی تمام واٹر فلٹریشن پلانٹس کو فوری ٹیک اوور کرے اور غیر فعال پلانٹس کی بحالی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے فلٹریشن پلانٹس کی فعالیت اور مؤثر آپریشن پر خصوصی توجہ دی جائے۔اجلاس میں کمشنر عامر خاں نے بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈویژن کے چاروں اضلاع میں سُتھرا پنجاب، صاف پانی، اپنا کھیت اپنا روزگار اور اپنی چھت اپنا گھر سمیت مختلف ترجیحی پروگرام جاری ہیں۔

سُتھرا پنجاب کے تحت روزانہ 50,501 ٹن ویسٹ اکٹھا کیا جا رہا ہے جبکہ 20,480 ہیومن ریسورس اور 4,092 مشینری موجود ہے۔ 937 فلٹریشن پلانٹس میں سے 733 فعال ہیں۔ اپنا کھیت اپنا روزگار کے تحت 758 لاٹس میں سے 677 کی بیلٹنگ مکمل، 511 لیز ڈیڈز تقسیم اور 489 لاٹس کا قبضہ دیا جا چکا ہے، جبکہ اپنی چھت اپنا گھر کے تحت 87,792 درخواستوں میں سے 10,181 منظور، 3,892 گھر مکمل اور 1,540 زیر تعمیر ہیں۔

ریونیو شعبے میں 32,375 کھیوٹ مسائل میں سے 20,753 حل، 240,784 میوٹیشن مسائل میں سے 73,820 حل جبکہ 287,239 مسنگ میوٹیشنز میں سے 191,628 حاصل کی جا چکی ہیں۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیلئے 4,635 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 2,880 منظور ہوئیں۔ ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت مختلف سطحوں پر بڑی تعداد میں کیسز نمٹائے گئے جبکہ موضع جات کی ڈیجیٹائزیشن، ماس لیول پارٹیشن، کمپلینٹ مینجمنٹ اور پی ایل آر اے سے متعلق اصلاحات بھی جاری ہیں۔

پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے 14 پیکیجز کی مجموعی لاگت 80 ارب روپے ہے۔ اوپن سورس ریونیو کے تحت 40 ترقیاتی سکیموں پر 6,569 ملین روپے لاگت آئے گی۔ بیوٹیفکیشن کی 7 سکیموں پر مجموعی طور پر 1,749 ملین روپے لاگت آئے گی۔ گھنٹہ گھر تا حسین آگاہی بازار ٹرانسفارمیشن اینڈ ریسٹوریشن سکیم 90 فیصد جبکہ برانڈ روڈ ملتان کی سکیم 78 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ خانیوال، وہاڑی اور لودھراں میں بھی متعدد بیوٹیفکیشن سکیمیں تکمیل کے قریب یا مکمل ہو چکی ہیں۔

ای بس سروس کے حوالے سے بتایا گیا کہ ڈویژن کیلئے مختص 220 بسوں میں سے 75 موصول ہو چکی ہیں، جن میں ملتان کو 45، خانیوال کو 9، وہاڑی کو 10 اور لودھراں کو 11 بسیں شامل ہیں، جبکہ مزید 145 بسیں جلد موصول ہوں گی۔ ملتان میں موصول شدہ بسیں جلد آپریشنل کی جائیں گی جبکہ دیگر اضلاع میں سروس جاری ہے۔ ای بس شیڈز کی تعمیر بھی مختلف اضلاع میں جاری ہے اور متعدد شیڈز مکمل ہو چکے ہیں اہم ترجیحی منصوبوں میں نادرآباد پھاٹک تا انڈسٹریل اسٹیٹ فلائی اوور، 200 بیڈڈ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال غلہ گودام، نشتر ہسپتال کینسر سنٹر، ملتان ایونیو، دہلی ملتان روڈ، قلعہ کہنہ قاسم باغ اور ماڈل ای رجسٹریشن دفاتر کو ارضی سہولت مرکز میں تبدیل کرنے کی سکیموں بارے تفصیلی بریفنگ دی۔

ترقیاتی منصوبوں میں سیوریج، سٹارم واٹر ڈرینج، روڈ ریسٹوریشن، واٹر سپلائی اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔کمشنر عامر کریم خاں نے بریفنگ میں بتایا کہ ون پلانٹ ون سٹوڈنٹ مہم کے تحت 33,289 پودے اور 10,054 ٹری لاگ بکس تقسیم کئے گئے ہیں۔ طلبہ کو شجرکاری سے مستقل طور پر منسلک کرنے کے ساتھ الاٹیز اور لمبردارز کی زمینوں پر بھی شجرکاری بڑھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے خصوصی تعلیم کے حوالے سے سماعت سے محروم بچوں کو ہیئرنگ ایڈز کی فراہمی، بروقت تشخیص اور نومولود بچوں کی سکریننگ کیلئے مؤثر نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کمشنر نے مثالی گاؤں کے منصوبے میں مقامی ثقافت، دیہی طرز زندگی اور بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولیات فراہم کرنے کی تجویز دی۔ شجرکاری کے مقامات پر سایہ دار جگہوں، بینچز اور فیملیز کیلئے بیٹھنے کی سہولیات بھی پیدا کی جا رہی ہیں تاکہ شہری خوبصورتی کے ساتھ عوام کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔

کمشنر نے 15 سالہ پرانے ریونیو ریکارڈ کی سکیننگ و انڈیکسنگ، پی ایل آر اے اور ایف بی آر کے ڈیٹا ربط، ایز آف ڈوئنگ بزنس، ریونیو اصلاحات اور دیگر فیلڈ اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں تمام ایڈیشنل کمشنرز، چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی جی ایم ڈی اے، ایم ڈی ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان، ترقیاتی اداروں کے سربراہان اور ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔