پی اے سی کی جامعہ بلوچستان کو ایف آئی اے، نادرا ،وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے بیرون ملک موجود سکالرز کی واپسی کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت

بدھ 9 ستمبر 2026 20:30

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 ستمبر2026ء) بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں جامعہ بلوچستان کے مالی و انتظامی امور سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کی، جبکہ کمیٹی کے اراکین فضل قادر مندوخیل، عبیداللہ گورگیج اور صفیہ فضل نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر ظہور احمد بازئی، اسپیشل سیکریٹری اسمبلی سراج لہڑی،ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان شجاع علی، ?ایڈیشنل اکائونٹنٹ جنرل بوچستان حافظ نورالحق، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران جامعہ بلوچستان میں مالی سال2019-21کے دوران مختلف الاؤنسز کی مد میں 47.601 ملین روپے کی اضافی ادائیگی سے متعلق آڈٹ پیرا پر تفصیلی غور کیا گیا۔

(جاری ہے)

آڈٹ کے مطابق یوٹیلیٹی الاؤنس کی مد میں 42.763 ملین روپے، اٹینڈنٹ الاؤنس کی مد میں 2.678 ملین روپے جبکہ کمپیوٹر الاؤنس کی مد میں 2.160 ملین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔آڈٹ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ اضافی ادائیگیاں کمزور مالی اور اندرونی کنٹرولز کے باعث ہوئیں، جس سے جامعہ کو مالی نقصان پہنچا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ معاملہ 27 ستمبر 2022 کو جامعہ کی انتظامیہ کے سامنے اٹھایا گیا تھا، تاہم مقررہ مدت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 3 جنوری 2023 کو ہونے والے ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) کے اجلاس میں جامعہ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یوٹیلیٹی الاؤنس قانونی اداروں کی منظوری کے بعد ادا کیا جا رہا تھا، جبکہ کمپیوٹر الاؤنس صرف اہل ملازمین کو دیا جا رہا تھا۔

اٹینڈنٹ الاؤنس کے معاملے میں آڈٹ کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا تھا۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی الاؤنس کی ادائیگی کے جواز کے لیے سینیٹ سے منظوری اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی توثیق حاصل کی جائے، جبکہ کمپیوٹر الاؤنس کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق اہلیت کا معیار فراہم کیا جائے۔ اٹینڈنٹ الاؤنس روکنے اور زائد ادا شدہ رقم متعلقہ افسران و اہلکاروں سے وصول کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اس موقع پر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے یوٹیلیٹی الاؤنس کے حوالے سے چیف منسٹر کی جانب سے اجازت کے معاملے پر غور کرتے ہوئے الاؤنس کی ادائیگی کے حوالے سے ضروری فیصلہ کیا۔اجلاس میں بیرون ملک غائب ہونے والے اسکالرشپس کے سلسلے میں فرائض سے غیر حاضر اور واپس نہ آنے والے معاملہ سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کی سابقہ ہدایات، بالخصوص 7 مارچ 2023 اور 7 اگست 2019 کے فیصلوں کی روشنی میں جامعہ بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کے تعاون سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA)، نادرا اور وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے بیرون ملک موجود ایسے اسکالرز کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ مذکورہ اسکالرز یا ان کے ضامنوں سے 91.565 ملین روپے کے اخراجات کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بعض مقدمات میں ضامن اور اسکالر کے درمیان خونی رشتہ موجود ہے، لہذا آئندہ اسکالرشپ کے معاملات میں کسی بھی مستفید ہونے والے فرد کا ضامن اس کا قریبی خونی رشتہ دار نہیں ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کو بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیے فیکلٹی ممبران کو اسکالرشپس دینے کے حوالے سے شفاف، میرٹ پر مبنی اور جوابدہ نظام وضع کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ سرکاری وسائل کا موثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔وائس چانسلر نے کمیٹی کو بتایا کہ نہ آنے والے اسکالرز کی واپسی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے اور مختلف مقامات پر کوششیں کی گئی ہیں، جبکہ بعض معاملات اب عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

کمیٹی نے متعلقہ امور میں پیش رفت یقینی بنانے اور آڈٹ کو مکمل ریکارڈ و رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران ایک سال سے زائد عرصے سے ریکارڈ کی عدم فراہمی کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ ریکارڈ گزشتہ ایک سال سے فراہم نہیں کیا گیا تو اسے محض ایک ہفتے میں مکمل طور پر فراہم کرنے کے دعوے پر موثر پیش رفت اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کے مالی و انتظامی معاملات میں شفافیت، موثر اندرونی کنٹرولز، قواعد و ضوابط کی پابندی اور آڈٹ اعتراضات پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔