سرینگر، ہائیکورٹ نے ایک کشمیری کی پرانے مقدمے بریت کالعدم قرار دیدی،ٹرائل کورٹ کو محمد یوسف لون کے خلاف نئے سرے سے مقدمہ چلانے کا حکم

جمعرات 10 ستمبر 2026 11:51

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 ستمبر2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ نے 2013 کے ایک مقدمے میں ایک کشمیری کی بریت کو کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو نئے سرے سے مقدمہ چلانے کی ہدایت کی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار کی سربراہی میں ایک ڈویڑن بنچ نے یہ حکم محمد یوسف لون کے کیس میں دیا جسے قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کپواڑہ نے بری کردیا تھا۔

یہ مقدمہ 08 نومبر 2013 کو جامع مسجد کپواڑہ سے نکلنے والے ایک جلوس سے متعلق ہے، جس کی قیادت بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی شہید اور محمد یوسف لون کر رہے تھے۔فرد جرم میں بھارت مخالف نعرے لگانے اور بھارتی فورسز اہلکاروں پر پتھراو ¿ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو فرد جرم کو بحال کرنے اور ریکارڈ پر رکھے گئے مواد پر غور کرنے کے بعد ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی ہدایت کی۔

سری نگر میں قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے مقدمات کشمیریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی بھارتی پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں پرانے مقدمات کی بحالی کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کو دبانا ہے۔