تصادم کے فریقین سکولوں ، دیگر تعلیمی اداروں پر حملے فوری طور پر روکیں، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

جمعرات 10 ستمبر 2026 12:34

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 ستمبر2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے تمام متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں پر حملے فوری طور پر روکیں ، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور حملوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ’’تعلیم کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ممالک کو ہر بچے کے لیے تعلیم میں سرمایہ کاری، محفوظ سکولوں کے اعلامیے کی مکمل توثیق و عمل درآمد اور تعلیم کو حملوں سے بچانے کے لیے عالمی اتحاد کی حمایت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر ان پرسن اور آن لائن دونوں سطحوں پربالخصوص لڑکیوں اور کمزور حالات سے دوچار بچوں کے لیے تعلیمی نظام کو تیار اور محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔

(جاری ہے)

مسلح افواج اور گروہوں سے وابستہ بچوں اور نوجوانوں کو محفوظ طریقے سے دوبارہ سکولوں اور معاشرے میں شامل کرنے کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ ان کوششوں میں ممالک کی مدد کے لیے مختلف ذرائع فراہم کرتا ہے، جن میں یونیسکو کی عملی رہنمائی اور پالیسی معاونت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے اور نوجوان کے بہتر مستقبل کی ضمانت اور بنیادی انسانی حق ہے، تاہم اس حق کا حصول روز بروز زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ2 سال کے دوران دنیا بھر میں 8,500 سے زائد حملے سکولوں، طلبہ اور اساتذہ کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں مہلک تشدد، اغوا اور ذہنی صدمے کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کے حقِ تعلیم اور سکولوں سمیت تمام تعلیمی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے دوران محفوظ رکھنے اور انہیں ایک پرامن مستقبل کی تعمیر کے قابل بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ تعلیم کو حملوں سے محفوظ رکھنے کا عالمی دن منانے کا مقصد مسلح تنازعات کے دوران سکولوں، طلبہ اور اساتذہ کے تحفظ کی فوری ضرورت بارے عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ہے۔