انگلینڈ میں مظاہرین نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو تارکینِ وطن سمجھ کر ہوٹل کا گھیراؤ کرلیا

ہوٹل کے باہر اس وقت 30 سے 40 افراد کا مشتعل ہجوم اکٹھا ہوگیا جب سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ ایک بس کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کا نیا گروپ ہوٹل منتقل کردیا گیا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 10 ستمبر 2026 13:22

انگلینڈ میں مظاہرین نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو تارکینِ وطن سمجھ کر ہوٹل ..
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 ستمبر 2026ء) برطانیہ کے ساحلی شہر پورٹسماؤتھ میں نسل پرستی اور تارکینِ وطن کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا جہاں مقامی دائیں بازو کے مظاہرین نے دورے پر آئی ہوئی پاکستان کی قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکینِ وطن سمجھ کر ان کے ہوٹل کے باہر دھاوا بول دیا۔ بی بی سی کے مطابق منگل کی شام پورٹسماؤتھ میں واقع میریٹ ہوٹل کے باہر اس وقت 30 سے 40 افراد پر مشتمل مشتعل ہجوم اکٹھا ہوگیا جب سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ ایک بس کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کا نیا گروپ ہوٹل میں منتقل کیا گیا ہے، اس سلسلے میں ایک مقامی شہری نے بس سے ایشیائی نسل کے کھلاڑیوں کو اترتے دیکھا اور تصویر بنا کر بنا تصدیق سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی، جس کے بعد پناہ گزینوں کی مخالفت کرنے والے مظاہرین نے ہوٹل کا گھیراؤ کرنا شروع کردیا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ معاملہ سنگین ہونے پر ہیمپشائر پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی، پولیس حکام نے مظاہرین کو سمجھایا کہ ان کی تشویش اور معلومات بالکل غلط ہیں، مقامی کاؤنٹی کونسلر جارج میڈگوک نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے خود ہوٹل کے مینیجر سے ملاقات کی اور انہوں نے مجھے تمام تر دستاویزات دکھائیں کہ یہ کوئی غیرقانونی تارکینِ وطن نہیں بلکہ پاکستان کی دورہ کرنے والی قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اور آفیشلز ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ نے خود آ کر مجھ سے بات کی اور ثبوت پیش کیے۔

پورٹسماؤتھ نارتھ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکنِ برطانوی پارلیمنٹ امانڈا مارٹن نے واقعے کو شدید نامناسب اور تشویشناک قرار دیا، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ناقابلِ قبول ہے کہ محض غلط معلومات اور افواہوں کی بنیاد پر ہمارے شہر کا دورہ کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، امیگریشن پر بحث حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے نہ کہ بے بنیاد غلط فہمیوں کی بناء پر ایسا کیا جائے۔

بتایا جارہا ہے کہ اس شرمناک واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے پاکستانی جونیئر کرکٹرز کی خیریت کی دریافت کی اور دورے کے بقایا دنوں کے لیے کھلاڑیوں کے سیکیورٹی پلان اور حفاظتی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جب کہ دوسری جانب ہوٹل انتظامیہ نے اس واقعے پر کسی بھی قسم کا باضابطہ تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی۔