اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 ستمبر 2026ء) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ویک اینڈ پر ہونے والے اٹھارویں برکس سربراہی اجلاس کی تیاری کے دوران بھارت نے "Building for Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability" کا سلوگن اختیار کیا، جو برکس کے پانچ بانی ارکان برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے مخفف (BRICS) سے مطابقت رکھتا ہے۔
ساتھ ہی اس میں ایسے اہداف بھی شامل ہیں، جن پر نئے رکن ممالک، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات بھی اتفاق کر سکتے ہیں۔میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے BRICS لیب کی ڈائریکٹر میہائیلا پاپا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ یہ سلوگن برکس کی نئی تشریح کا ایک مؤثر طریقہ ہے، جس کے تحت مخفف کو صرف رکن ممالک کے ناموں کے بجائے ایک مشترکہ مشن کی علامت بنایا گیا ہے۔
(جاری ہے)
تاہم ییل یونیورسٹی میں جنوبی ایشیائی مطالعات کے لیکچرر سوشانت سنگھ کا خیال ہے کہ یہ قدرے مبہم سلوگن ہے اور دراصل میزبان ملک بھارت کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ برکس کو زیادہ نمایاں سیاسی رنگ دینے کے بجائے نسبتاً غیر جانبدار اور کم پروفائل رکھا جائے۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے سنگھ نے کہا، ''بھارت روس یا چین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے کے مقابلے میں بھارتی قیادت کی توجہ اب زیادہ امریکہ کی جانب ہے۔
برکس کو مزید وسعت دینے یا اسے زیادہ مضبوط بنانے کا جوش و خروش بھارت میں دکھائی نہیں دیتا۔‘‘اس بار برکس کا سربراہی اجلاس زیادہ اہم کیوں؟
عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار نے اس بار کے برکس سربراہ اجلاس کو گزشتہ سال برازیل میں ہونے والے اجلاس کے مقابلے میں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔
ریو ڈی جنیرو میں گزشتہ سال ہونے والے اجلاس میں برکس کے 11 رکن ممالک کے سربراہان میں سے چھ شریک نہیں ہوئے تھے، جن میں چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن جیسے اہم رہنما بھی شامل تھے۔
اس بار پوٹن کی شرکت متوقع ہے، جبکہ شی جن پنگ کی شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اگرچہ بیجنگ نے ابھی اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ایم آئی ٹی کے برکس لیب کی ڈائریکٹر میہائیلا پاپا کے مطابق، ''چین کی اعلیٰ قیادت کی شرکت انتہائی اہم ہے۔‘‘ ان کے بقول اگر علاقائی حریف ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے رہنما برکس کے پلیٹ فارم پر مل کر کام کرتے دکھائی دیں تو یہ برکس کی ''استحکام پیدا کرنے والی قوت‘‘ کے طور پر ایک اہم علامت ہو گی۔
یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے نمائندے بھیجے جانے کا امکان ہے۔
سعودی عرب
بھی اس بار بھارت میں ہونے والے برکس اجلاس میں شریک ہو سکتا ہے۔ اگرچہ برکس میں سعودی عرب کی رکنیت کی حیثیت اب بھی کسی حد تک غیر واضح سمجھی جاتی ہے تاہم برکس کی موجودہ سرکاری دستاویزات میں سعودی عرب کو عموماً رکن ملک کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔بھارت کے لیے نئے مواقع
بھارت
کے لیے اس سربراہ اجلاس کی اہمیت صرف برکس کے پلیٹ فارم تک محدود نہیں بلکہ اس موقع پر ہونے والی دوطرفہ ملاقاتیں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جمعے کو ملاقات متوقع ہے، جبکہ چین اور بھارت کے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں چینی صدر شی جن پنگ اور مودی کے درمیان براہِ راست گفتگو کا امکان بھی موجود ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہفتے کے اختتام تک کوئی بڑی یا ٹھوس پیش رفت سامنے آئے گی۔
سوشانت سنگھ کے بقول، ''عملی نتائج اور قابلِ حصول اہداف کے اعتبار سے اس اجلاس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ بھارت کی نظر میں برکس کا بنیادی مقصد تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا اور باہمی مفادات کو فروغ دینا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، کیا ہم ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ہمارے لیے فائدہ مند ہوں، بغیر اس کے کہ ان میں مغرب کے ساتھ محاذ آرائی یا اس پر تنقید کا عنصر شامل ہو؟‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی غیر وابستہ خارجہ پالیسی ہی اسے برکس کے اندر توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
دفاعی ماہر پاپا کے مطابق، ''بھارت اپنی نمایاں جغرافیائی سیاسی حیثیت اور مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے باعث برکس کو اضافی وزن فراہم کرتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے مختلف فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔‘‘ان کے بقول، ''بھارت کا طرزِ عمل غالباً برکس کو بلاک سیاست کے بجائے عملی تعاون اور عالمی نظم و نسق میں اصلاحات جیسے موضوعات پر مرکوز رکھنے میں مدد دے گا۔
‘‘وزیر اعظم مودی متعدد مواقع پر برکس کو ''گلوبل ساؤتھ‘‘ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دے چکے ہیں، جہاں ترقی پذیر ممالک مختلف عالمی مسائل پر مشترکہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔
سنگھ کے مطابق برکس بھارت کی اولین خارجہ پالیسی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور نئی دہلی حکومت حالیہ برسوں میں اس تاثر سے بھی مطمئن نہیں رہی کہ یہ گروپ بتدریج ''مغرب مخالف‘‘ رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے۔
سنگھ کہتے ہیں، ''برکس کی موجودہ سربراہی بھارت کے پاس ہے، اس لیے نئی دہلی کسی بھی قسم کی مغرب مخالف پالیسی سے خود کو وابستہ نہیں کرنا چاہے گا۔‘‘ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات اور مجموعی طور پر مغربی ممالک کے ساتھ بھارت کے مضبوط تجارتی روابط ہیں۔
برکس سربراہ اجلاس کیا حاصل کر سکتا ہے؟
میہائیلا پاپا کے مطابق اس سال برکس اجلاس میں تجارت، مالیاتی تعاون اور زراعت کے شعبوں میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔
ان کے بقول رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط، متبادل مالیاتی نظام اور خوراک کے تحفظ جیسے موضوعات توجہ کا مرکز رہ سکتے ہیں۔پاپا کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی نظم و نسق میں اصلاحات کا معاملہ اہم رہے گا، لیکن برکس کی کامیابی کا دارومدار ان شعبوں پر ہو گا جن پر تمام رکن ممالک نسبتاً زیادہ متفق ہیں، خصوصاً تجارت اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) سے متعلق امور پر۔
تاہم بعض مبصرین اتنے پُرامید نہیں۔ ییل یونیورسٹی کے سوشانت سنگھ کے مطابق چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، امریکی تجارتی پالیسیوں اور برکس کے اندر موجود اختلافات کے باعث کسی بڑی پیش رفت کا امکان محدود ہے۔ ان کے بقول موجودہ عالمی حالات اور رکن ممالک کے متضاد مفادات کو دیکھتے ہوئے یہ اجلاس شاید کوئی بڑا نتیجہ نہ دے سکے۔