سرکاری اداروں کے 832 ارب روپے کے نقصانات تشویشناک ہیں، میاں زاہد حسین

بدھ 16 ستمبر 2026 21:43

سرکاری اداروں کے 832 ارب روپے کے نقصانات تشویشناک ہیں، میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں کے مسلسل نقصانات اور ناقص کارکردگی ملکی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ ہے، ناکام اداروں پر قومی وسائل کا مسلسل ضیاع بالآخر عوام اور تاجر برادری پر بھاری ٹیکسوں اور مہنگے یوٹیلیٹی بلوں کی صورت میں بوجھ ڈالتا ہے۔

ایک بیان میں میاں زاہد حسین نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26ء کی پہلی ششماہی کے دوران منافع بخش سرکاری اداروں نے 423.3 ارب روپے کمائے، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کو مجموعی طور پر 342.8 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2024-25ء کے دوران سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 832.8 ارب روپے رہے، جبکہ صرف 11 اداروں کے نقصانات 705 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

حکومت نے سرکاری اداروں کو 804 ارب روپے کی معاونت فراہم کی، جبکہ ان اداروں کی جانب سے قومی خزانے میں 839 ارب روپے جمع کرائے گئے۔میاں زاہد حسین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کمرشل سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.5 کھرب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں کا قرضہ مالی سال 2005-06ئ کے تقریباً 250 ارب روپے سے بڑھ کر 2025-26ء کی پہلی ششماہی تک 9.57 کھرب روپے ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کے مسلسل مالی نقصانات قومی وسائل پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ نجی شعبے کے لیے قرضوں کے حصول کو بھی مشکل بنا رہے ہیں، جس سے صنعتی ترقی متاثر ہورہی ہے۔ ان کے مطابق طویل عرصے کے نقصانات میں بڑا حصہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ترسیلی نقصانات، کم وصولیوں اور لاگت کے مطابق نہ ہونے والے نرخوں کا ہے، جبکہ پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور دیگر ادارے بھی طویل عرصے سے مالی اور انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز 2015ء سے بند ہونے کے باوجود تنخواہوں اور دیکھ بھال کی مد میں سالانہ اخراجات کا باعث بن رہی ہے، جو سرکاری اداروں کی اصلاحات میں تاخیر کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں تاخیر سے پیدا ہونے والے مالی مسائل پالیسی سازوں کے لیے سبق ہیں، اس لیے دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تشکیل نو اور نجکاری میں مزید تاخیر سے گریز کیا جائے۔

میاں زاہد حسین نے وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے قیام کو شفافیت کے لیے مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق سرکاری کمرشل اداروں کے انتظام و انصرام سے مرحلہ وار دستبردار ہوکر فوری، شفاف نجکاری اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کا عمل تیز کرنا چاہیے۔