ایم ڈی کیٹ امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کی ہدایت پر پی ایم اے کااظہار تشویش

جمعرات 17 ستمبر 2026 17:21

ایم ڈی کیٹ امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کی ہدایت پر پی ایم اے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2026ء) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم ای) نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) منعقد کرنے والی جامعات کو امتحان کے فوری بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کی ہدایت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔پی ایم اے کے مطابق سوالیہ پرچہ امیدواروں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت دینا ملک بھر کے طلبہ کا بنیادی حق ہے، جس کے ذریعے وہ امتحان کے بعد اپنی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لینے کے ساتھ مبہم یا غلط سوالات کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں۔

پی ایم اے نے کہا کہ ماضی میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام امتحانات میں سوالیہ پرچوں اور جوابی کلید کی مدد سے طلبہ نے غلط یا متنازع سوالات کی نشاندہی کی، تاہم سوالیہ پرچہ واپس لے کر طلبہ کو صرف اپنی یادداشت پر انحصار کرنے پر مجبور کرنا جائز اعتراضات اٹھانے کے حق کو متاثر کرتا ہے۔

(جاری ہے)

پی ایم اے نے سوال اٹھایا کہ پی ایم ڈی سی طلبہ کو سوالیہ پرچے فراہم کرنے سے کیوں گریزاں ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس ہدایت کو کونسل کی کمزوریوں کو چھپانے اور امیدواروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پی ایم اے نے امتحانی پالیسی کے علاوہ طبی ماہرین کے خلاف کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور پنجاب میں 15 ڈاکٹروں کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشنز معطل کیے جانے کی مذمت کی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں ڈاکٹرز نظامی مسائل، تضحیک، ذاتی تحفظ کے خدشات اور کم معاوضوں سمیت مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث باصلاحیت طبی ماہرین بیرون ملک جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

پی ایم اے نے پی ایم ڈی سی کے موجودہ ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کونسل کو شفاف ملک گیر انتخابی عمل کے ذریعے خودمختار اور جمہوری طور پر منتخب ادارے میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کے متاثرہ 15 ڈاکٹروں کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشنز فوری بحال کی جائیں، ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امیدواروں کو سوالیہ پرچے اپنے پاس رکھنے اور امتحانی کارکردگی کا جائزہ لینے کی سابقہ روایت بحال کی جائے اور خودمختار و جمہوری طور پر منتخب پی ایم ڈی سی کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔