بہاولپورسے 17 سالہ نوجوان کو امریکی ادارے”ایف بی آئی“کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا

امریکی تحقیقاتی ادارے نے وزارت خارجہ کے ذریعے حکام کو نوجوان کے بارے میں آگاہ کیا جو اپنے باپ کو زہرسے قتل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مددحاصل کررہا ہے . رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 24 ستمبر 2026 23:17

بہاولپورسے 17 سالہ نوجوان کو امریکی ادارے”ایف بی آئی“کی فراہم کردہ ..
لاہور(اردوپوا ئنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 ستمبر ۔2026 ) نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے باپ کو زہردے کرہلاک کرنے کے شبے میں بہاولپور 17 سالہ نوجوان کو امریکی تحقیقاتی ادارے”ایف بی آئی“ کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے نے ”این سی سی آئی اے“کووزارت خارجہ کے ذریعے معلومات فراہم کی تھیں کہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم”کلاڈ اے آئی“ سے ایک نوجوان اپنے باپ کو زہرسے قتل کرنے کی معلومات جمع کررہا ہے.

(جاری ہے)

اگرچہ گزشتہ روزخبرمیں ”این سی سی آئی اے“نے محض غیرملکی انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیا تھا تاہم درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آئی سے ملنے والی معلومات پاکستانی وزارتِ خارجہ نے 22 ستمبر کو ایک سرکاری مراسلے کے ذریعے این سی سی آئی اے کو فراہم کیں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کلاڈ اے آئی کا ایک صارف مہلک زہریلے مادوں اور ا±ن کے استعمال اور ممکنہ اثرات پر تفصیلی تحقیق کر رہا تھا.

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شیئر کیے گئے ڈیجیٹل شواہد کے مطابق مذکورہ صارف نے مبینہ طور پر اپنے والد کو لیبارٹری گریڈ میتھانول کھانے میں ملا کر والد کو ہلاک کرنے کی ابتدائی کوشش کی تھی تاہم اس کوشش میں ناکامی کے بعد وہ ”روزری پیز“ سے حاصل ہونے والے زہریلے مادے ابرِن کے استعمال سے متعلق اے آئی سے مزید معلومات حاصل کر رہا تھا ایف آئی آر میں ”کلاڈ اے آئی“ پر نوجوان کی جانب سے کی گئی مبینہ گفتگو کے متعدد اقتباسات بھی شامل کیے گئے ہیں ایف آئی آر کے مطابق ایف بی آئی کی جانب سے اس اکاﺅنٹ سے وابستہ ای میل اور متعدد آئی پی ایڈریسز کی معلومات بھی پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں، جن کی بنیاد پر این سی سی آئی اے لاہور نے ڈیجیٹل ٹریسنگ اور نادرا کے ویری فکیشن سسٹم کے ذریعے تحقیقات کا آغاز کیا این سی سی آئی اے کے مطابق سفارتی ذرائع سے ملنے والی ابتدائی اطلاع میں صارف کے ضلع فیصل آباد میں موجود ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں سرکاری ریکارڈ کی مدد سے تفتیش کاروں نے ایک کم عمر لڑکے تک رسائی حاصل کی جو بہاولپورمیں مقیم تھا.