Live Updates

80ممالک کا آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ‘ایران اور حوثیوں کی مذمت

حوثیوں کی باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی بین الاقوامی بحری جہاز رانی، سمندری سلامتی اور عالمی تجارت کیلئے خطرات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے. اقوام متحدہ میں 80 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 24 ستمبر 2026 23:01

80ممالک کا آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ‘ایران اور حوثیوں ..
نیویارک(اردوپوا ئنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 ستمبر ۔2026 ) اقوام متحدہ میں تقریباً 80 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے اور خطے میں مسلسل حملوں، بین الاقوامی تجارت میں خلل ڈالنے پر ایران اور اس کے اتحادی حوثیوں کی شدید مذمت کی ہے. خبررساں ادارے ”اے پی“کے مطابق اقوام متحدہ میں بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات بین الاقوامی سلامتی اور جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق اس مشترکہ بیان کی حمایت خلیجی عرب ریاستوں اور بڑی مغربی طاقتوں نے کی ہے اعلامیے میں یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم یمن میں تنازع دوبارہ شروع کرنے کے حوثیوں کے فیصلے، سعودی عرب پر ان کے مسلسل حملوں اور بحیرہ احمر میں ان کی کارروائیوں کی بھی پرزور مذمت کرتے ہیں. بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے بین الاقوامی تجارت اور عالمی توانائی کی سلامتی کو متاثر کیا ہے، جبکہ اہم بحری گزرگاہ کو کھولنا اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا فوری ضرورت ہے مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ حوثیوں کی باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی بین الاقوامی بحری جہاز رانی، سمندری سلامتی اور عالمی تجارت کیلئے خطرات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے.

بیان کے حامی ممالک میں خلیجی عرب ریاستوں کے علاوہ بڑی مغربی طاقتیں بھی شامل ہیں ان ممالک نے عالمی تجارت کے اہم بحری راستوں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہونے سے روکنے پر زور دیا اس موقع پر آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبے میں صرف راستہ کھولنے پر زور نہیں دیا گیا بلکہ تجارتی جہازوں کیلئے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرگاہ کی ضرورت بھی واضح کی گئی ایک متعلقہ رپورٹ کے مطابق مشترکہ بیان میں جہازوں کی نقل و حرکت پر غیر قانونی ٹولز، شرائط یا اضافی چارجز عائد نہ کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا.

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں جاری کشیدگی نے عالمی تیل اور گیس کی تجارت پر دباﺅ بڑھایا ہے ” رائٹرز“ کے مطابق جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اس راستے سے ہوتی تھی. دوسری جانب ایران اور حوثی گروپ اپنی کارروائیوں کو دفاعی اقدامات قرار دیتے رہے ہیں تہران اور حوثیوں کا موقف ہے کہ ان کی کارروائیاں موجودہ جنگ اور علاقائی فوجی دباﺅ کے تناظر میں دفاعی نوعیت کی ہیں اقوام متحدہ میں یہ مشترکہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں.
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات