حکومت کی ناکامی اور اپوزیشن کی کامیابی ہے کہ مائنس ون فارمولا ناکام ہوگیا، حامد میر

ارباب اختیار کا خیال تھا کہ عمران خان کو سیاست سے مائنس کریں گے، اس کو جیل میں ڈالیں گے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن آج ایک شخص عمران خان کے اردگرد پاکستان کی سیاست گھوم رہی ہے، سینئر صحافی کا تجزیہ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 24 ستمبر 2026 22:11

حکومت کی ناکامی اور اپوزیشن کی کامیابی ہے کہ مائنس ون فارمولا ناکام ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 24 ستمبر 2026ء ) سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناکامی اور اپوزیشن کی کامیابی ہے کہ مائنس ون فارمولا ناکام ہوگیا، ارباب اختیار کا خیال تھا کہ عمران خان کو جیل میں ڈالیں گے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن آج ایک شخص عمران خان کے اردگرد پاکستان کی سیاست گھوم رہی ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ ارباب اختیار کا خیال تھا کہ عمران خان کو سیاست سے مائنس کریں گے اسکو جیل میں ڈالیں گے وہ ختم ہو جائے گا۔

ایسا نظر نہیں آرہا ۔ایک شخص عمران خان ارد گرد پاکستان کی سیاست گھوم رہی ہے۔ ساری حکومت اس کو جیل میں رکھنا چاہتی ہے اور ساری اپوزیشن مل کر اسکو جیل سے نکالنا چاہتی ہے۔ اور ابھی بھی عمران خان صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے باہر بھی ایک مقبول لیڈر کی حیثیت سے نظر آرہے ہیں۔

(جاری ہے)

حامد میر نے کہا کہ حکومت کی ناکامی اور اپوزیشن کی کامیابی ہے کہ مائنس ون فارمولا ناکام ہوگیا ہے ، جس طرح میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ بہت سی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ان کی گرفتاری کی مذمت کررہی ہیں۔

پچھلے تین چار ہفتوں کے حالات وواقعات سے ایک اور چیز سامنے آئی ہیں کہ پاکستان میں جوڑ توڑ کی سیاست یااقتدار کی سیاست یہ آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے، اپنے آخری دم پر ہے، وہ جماعتیں جو خود کو جمہوری جماعتیں کہتی تھیں انہوں نے وقت اور حالات کے سانچے میں ڈھل کر پاور پالیٹکس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔

کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوستی کرلی کبھی مخالفت کردی۔کبھی کچھ لوٹوں کو گلے لگالیا، کبھی کچھ لوٹوں کو پارٹی سے نکال دیا۔کبھی کسی سیاسی مخالف کے ساتھ دوستی کرلی اور کبھی اس کو جیل میں ڈال دیا۔عمران خان بھی اپنے دور حکومت میں یہی پاور پالیٹکس کررہے تھے۔لیکن عمران خان نے پچھلے دوسالوں میں جیل میں بیٹھ کر پاور پالیٹکس کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ان کی پارٹی کے لوگ ابھی کچھ ہفتے پہلے تک پاورپالیٹکس کررہے تھے، لیکن عمران خان کے اپنی جماعت کے لوگوں کی بھی پاورپالیٹکس ختم کردی ہے۔